خیبر پختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے مشترکہ جوابی آپریشن میں 15 دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے۔ آئی جی پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تاحال جاری ہے۔
آئی جی پولیس کے مطابق آپریشن کے دوران ڈی ایس پی دیار خان نے بہادری سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ حملے میں مجموعی طور پر 9 پولیس اہلکار شہید جبکہ ڈی ایس پی مجاہد حسین سمیت 28 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔
ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کونے کونے سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جنگ پوری قوت، عزم اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے ساتھ جاری رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگو: خزینہ چیک پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، ڈی ایس پی سمیت 7 پولیس اہلکار شہید
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ہنگو میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ نے حملے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی اور دیگر پولیس اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا، جبکہ زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولیات کی فوری فراہمی کی ہدایت جاری کی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں اور پولیس فورس کی قربانیوں کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قیامِ امن حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔
ادھر ہنگو پولیس لائن میں ڈی ایس پی دیار خان سمیت 10 شہداء کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی، جس کے بعد شہداء کی میتیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں۔
