وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے نئے ٹیکس عائد کیے بغیر مالیاتی اصلاحات، شفافیت اور بہتر انتظامی نظام کے ذریعے 129 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 150 ارب روپے سے زائد ریونیو حاصل کر کے صوبے کی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 74 سال میں خیبرپختونخوا کا ریونیو صرف 62 ارب روپے تھا، تاہم اصلاحات کے نتیجے میں یہ بڑھ کر 150 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔ ان کے مطابق رواں مالی سال کے لیے 180 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ ڈیجیٹائزیشن اور مزید اصلاحات کے ذریعے 200 ارب روپے تک ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: ہیلتھ کیئر کمیشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری، 5,696 غیرقانونی طبی مراکز سیل
اسلام آباد میں پبلک فنانشل مینجمنٹ اینڈ ریونیو موبلائزیشن ریفارمز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت میرٹ، شفافیت اور احتساب کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اصلاحات کے ذریعے کرپشن کے راستے بند کیے جا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ریونیو میں تاریخی اضافہ ممکن ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ رواں سال تمام سرکاری محکموں کی سو فیصد ڈیجیٹائزیشن مکمل کی جائے گی۔ سرکاری فائلوں کی ڈیجیٹل ٹریکنگ کا نظام نافذ کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد عوامی خدمات بھی آن لائن فراہم کی جا رہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت سستی بجلی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے اپنی ٹرانسمیشن لائنز بچھانے پر کام کر رہی ہے، جس سے صنعت کاری کو فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے لیے مختلف شراکت داروں سے رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پاکستان کے مجموعی جنگلات کا 45 فیصد موجود ہے جبکہ صوبے کے 27 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں، جنہیں بڑھا کر 30 فیصد تک لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے کی موٹر ویز کو گرین ویز میں تبدیل کیا جائے گا کیونکہ خیبرپختونخوا موسمیاتی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبوں میں شامل ہے۔
وفاقی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق اپنے ریونیو ہدف سے 1300 ارب روپے پیچھے رہا اور آمدن بڑھانے کے لیے اس کے پاس کوئی مؤثر حکمت عملی موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی ترجیح قومی اثاثوں کی فروخت اور پٹرولیم لیوی میں اضافہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور حکومت میں کورونا جیسے مشکل حالات کے باوجود پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد رہی، صنعت اور زراعت کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی جبکہ مہنگائی بھی کم رہی۔ ان کے مطابق رجیم چینج کے بعد گزشتہ چار برسوں میں ملکی جی ڈی پی گروتھ تقریباً 3 فیصد تک محدود ہو گئی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن وفاقی حکومت کے پاس ان کے لیے کوئی مؤثر پالیسی نہیں، جس کے باعث برین ڈرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملکی قرضہ 43 ہزار ارب روپے سے بڑھ کر 97 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے جبکہ برآمدات 35 ارب ڈالر اور درآمدات 70 ارب ڈالر ہیں، جس سے تجارتی خسارہ برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد قومی فورمز پر وفاقی حکومت سے تجارتی خسارہ کم کرنے کی حکمت عملی کے بارے میں سوال کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وفاقی حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث کسان مشکلات کا شکار ہیں اور نوجوان ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے ورلڈ بینک اور محکمہ خزانہ کی معاونت اور اصلاحاتی اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہی اقدامات کی بدولت خیبرپختونخوا ریونیو میں تاریخی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
