جاوید خان مہمند
اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق سال 2023 گزشتہ 43 برسوں کے دوران قدرتی آفات کے لحاظ سے بدترین سال قرار دیا گیا ہے، جبکہ سیلاب ملک کی معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے اسلام آباد میں پیش کیے گئے اقتصادی سروے میں 1980 سے 2026 تک کے موسمیاتی اور قدرتی آفات کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا ہے۔
سروے کے مطابق 1980 کی دہائی میں قدرتی آفات کے واقعات نسبتاً کم رہے اور سالانہ بنیادوں پر ان کی تعداد صفر سے چار کے درمیان محدود تھی۔ تاہم 1990 کی دہائی کے بعد ان واقعات میں بتدریج اضافہ شروع ہوا، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی شدت اور اتار چڑھاؤ میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی بڑا اضافہ
اقتصادی سروے کے مطابق 2000 کے بعد صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی، جب سالانہ قدرتی آفات کے واقعات کی تعداد چھ سے گیارہ تک پہنچنے لگی۔ 2015 کے بعد سیلاب، طوفان، شدید گرمی کی لہروں، خشک سالی اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے موسمیاتی واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
رپورٹ کے مطابق سال 2023 گزشتہ 43 برسوں میں قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ سال رہا، جس کے دوران 13 بڑے موسمیاتی اور قدرتی آفات کے واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
اقتصادی سروے میں کہا گیا ہے کہ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قدرتی آفات اب محض وقتی یا موسمی مسئلہ نہیں رہیں بلکہ ایک مستقل اور ساختی چیلنج کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر موسمیاتی لچک، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور رسک مینجمنٹ کے نظام کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔
سروے کے مطابق 2025 کے تباہ کن سیلابوں کے نتیجے میں مجموعی طور پر 822 ارب روپے کا نقصان ہوا۔ ان سیلابوں میں ایک ہزار 39 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، 40 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے جبکہ 65 لاکھ افراد مختلف انداز میں متاثر ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں 430 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ انفراسٹرکچر کو 307 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ صرف سڑکوں کے نظام کو 187.7 ارب روپے کا نقصان ہوا، جبکہ رہائشی ڈھانچوں کو 91.2 ارب روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔
سیلاب سے 2 لاکھ 29 ہزار سے زائد گھروں کو نقصان پہنچا، جبکہ ہزاروں کلومیٹر سڑکیں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو گیا، جس کے باعث بحالی اور تعمیرِ نو کے عمل پر شدید دباؤ پیدا ہوا۔
اقتصادی سروے کے مطابق پنجاب سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ رہا، جہاں مجموعی نقصان کا 76.8 فیصد، یعنی 631 ارب روپے کا نقصان ریکارڈ کیا گیا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ سیلاب کے باعث مالی سال 2026 کے دوران بے روزگاری میں 2 لاکھ افراد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ملکی جی ڈی پی گروتھ کا ہدف بھی 4.2 فیصد سے کم ہو کر 3.5 سے 3.9 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
اقتصادی سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔
سروے کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر مختلف اقدامات جاری ہیں۔ پنجاب میں ماحولیات فنڈ اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے، سندھ میں ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، خیبر پختونخوا میں جنگلات اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ بلوچستان میں ماحولیاتی نظم و نسق اور آلودگی پر قابو پانے کے منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔
اقتصادی سروے کے نتائج اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پاکستان کی معیشت، روزگار، انفراسٹرکچر اور سماجی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مربوط اور مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہو چکی ہے۔
