پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) خیبرپختونخوا نے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال کے خدشے کے پیش نظر اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، سوات، اپر و لوئر کوہستان اور مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید گرمی اور حالیہ بارشوں کے باعث شمالی اضلاع میں گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے نتیجے میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (گلوف) سمیت فلیش فلڈز کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ سوات، چترال، کوہستان، دیر اور مانسہرہ کی برفانی وادیوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی اور پتھروں کے تودے گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، جبکہ رابطہ سڑکوں کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ضلع خیبر کی صنعتیں تو پھیل گئیں، اصل مسئلہ اب کیا بنتا جا رہا ہے؟
پی ڈی ایم اے کے مطابق ندی نالوں اور دریاؤں میں اچانک طغیانی کے باعث نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کو حساس مقامات کی مسلسل نگرانی اور بروقت حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ خطرناک علاقوں میں بروقت وارننگ جاری کی جائے، انخلائی مشقوں کا انعقاد کیا جائے اور محفوظ مقامات پر ضروری امدادی سامان کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
مزید برآں نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی کو پیشگی خبردار کرنے، کمیونٹی الرٹ سسٹمز کو فعال رکھنے اور مقامی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھنے کی بھی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گرمی کی شدید لہر کے دوران دریا کناروں، برساتی نالوں اور تیز بہاؤ والے مقامات کے قریب جانے سے گریز کریں۔ سیاحوں اور مسافروں کو بھی غیر ضروری سفر سے اجتناب اور حساس علاقوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ادھر ریسکیو 1122، سی اینڈ ڈبلیو، این ایچ اے اور دیگر متعلقہ اداروں کو کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے، جبکہ ضروری مشینری اور عملے کی پیشگی تعیناتی یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
