ضلع خیبر میں گزشتہ چند برسوں کے دوران صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مختلف شعبوں سے وابستہ چھوٹے اور بڑے کارخانوں کے قیام نے ایک جانب مقامی معیشت کو سہارا دیا، کاروباری سرگرمیوں میں تیزی پیدا کی اور ہزاروں افراد کو روزگار فراہم کیا ہے، تو دوسری جانب ماحولیاتی آلودگی، عوامی صحت اور مزدوروں کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات بھی سامنے آئے ہیں۔ 

 

مقامی سماجی حلقے، مزدور تنظیمیں اور شہری اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول اور انسانی صحت کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی یقینی بنائے جائیں۔

 

دستیاب معلومات کے مطابق ضلع خیبر میں ماربل پروسیسنگ یونٹس، پتھر کرشنگ پلانٹس، اسٹیل ملز، سگریٹ سازی کے کارخانے، پلاسٹک مصنوعات تیار کرنے والے یونٹس، آئس فیکٹریاں، پائپ سازی کے کارخانے اور دیگر صنعتی یونٹس سرگرم عمل ہیں۔ صنعتی شعبے کی یہ توسیع نہ صرف مقامی سطح پر سرمایہ کاری میں اضافے کا باعث بنی ہے بلکہ بے روزگاری میں کمی اور کاروباری مواقع پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

 

 

مقامی کاروباری حلقوں کے مطابق تحصیل باڑہ ضلع خیبر کا ایک اہم صنعتی مرکز بن چکا ہے، جہاں اسٹیل، ماربل، سگریٹ سازی اور دیگر صنعتوں سے وابستہ متعدد کارخانے کام کر رہے ہیں۔ اسی طرح تحصیل جمرود میں ماربل اور معدنیات سے متعلق صنعتوں کا وسیع نیٹ ورک موجود ہے، جبکہ تحصیل لنڈی کوتل میں صنعتی سرگرمیوں کے مقابلے میں سرحدی تجارت اور تجارتی کاروبار کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔

 

صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگر صنعتی سرگرمیوں کو جدید ماحولیاتی اصولوں کے مطابق نہ چلایا جائے تو یہ کارخانے فضائی آلودگی، شور، گردوغبار اور فضلے کے مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔ خصوصاً اسٹیل ملز، ماربل کرشنگ پلانٹس اور دیگر صنعتی یونٹس سے خارج ہونے والا دھواں اور باریک ذرات فضا کے معیار کو متاثر کرتے ہیں، جبکہ پتھر اور ماربل کی کٹائی سے پیدا ہونے والی گرد اردگرد کے علاقوں میں رہنے والے افراد کے لیے مشکلات کا سبب بن رہی ہے۔

 

چسٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر جبار آفریدی کے مطابق فضائی آلودگی انسانی صحت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صنعتی دھوئیں اور گردوغبار کے مسلسل اثرات سانس کی بیماریوں، دمہ، الرجی، کھانسی، آنکھوں میں جلن اور پھیپھڑوں کے مختلف امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔

 

 ان کے مطابق بچے، بزرگ شہری اور پہلے سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد فضائی آلودگی سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کے ساتھ ماحول دوست ٹیکنالوجی کا استعمال اور حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ عوامی صحت کو لاحق خطرات کو کم کیا جا سکے۔

 

 

دوسری جانب ضلع خیبر میں مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کا معاملہ بھی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ انصاف لیبر ونگ خیبرپختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری لعل ولی آفریدی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قبائلی اضلاع، بالخصوص ضلع خیبر کی مختلف صنعتوں میں 25 ہزار سے زائد مزدور کام کر رہے ہیں، تاہم ان کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام موجود نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ متعدد کارخانوں میں حفاظتی انتظامات ناکافی ہیں جس کی وجہ سے مختلف اوقات میں حادثات رونما ہوتے رہے ہیں۔

 

 ان کے مطابق کئی مزدور دورانِ ڈیوٹی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی بھی ہوئے، لیکن متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ریلیف یا معاوضے کا کوئی جامع نظام موجود نہیں۔

 

 لعل ولی آفریدی نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت صنعتی یونٹس کی رجسٹریشن کو حفاظتی معیارات سے مشروط بنایا جائے اور مزدوروں کے لیے ایک مستقل فلاحی فنڈ قائم کیا جائے تاکہ حادثات کی صورت میں متاثرہ خاندانوں اور یتیم بچوں کی مالی معاونت اور تعلیمی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

 

باڑہ میں قائم مختلف صنعتی یونٹس کے مزدوروں نے بھی اپنے مسائل اجاگر کرتے ہوئے حکومت سے خصوصی توجہ کا مطالبہ کیا ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ باڑہ میں لیبر ڈیپارٹمنٹ موجود ہے، تاہم عملی طور پر محنت کش طبقے کو خاطر خواہ سہولیات میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ باڑہ میں لیبر کالونی قائم کی جائے تاکہ مزدوروں کو مناسب رہائش کی سہولت حاصل ہو سکے۔

 

مزدوروں نے مزید کہا کہ ان کے بچوں کے لیے پشاور کی طرز پر ورکنگ فوکس گرامر سکولز قائم کیے جائیں تاکہ محنت کش طبقے کے بچے مفت اور معیاری تعلیم حاصل کر سکیں۔ 

 

ان کے مطابق باڑہ میں درجنوں صنعتی یونٹس میں ہزاروں مقامی مزدور خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں بھی وہ تعلیمی اور فلاحی سہولیات فراہم کی جائیں جو دیگر بڑے شہروں میں مزدوروں کے بچوں کو حاصل ہیں۔

 

 

ادھر ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ باڑہ اور انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق باڑہ میں ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی پر تقریباً 16 اسٹیل ملز کے خلاف قانونی کارروائی آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

 

ضلعی انتظامیہ نے انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے تعاون سے متعلقہ صنعتی یونٹس کو پہلے اور دوسرے مرحلے کے نوٹس جاری کیے جبکہ فیکٹری مالکان کی ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے سامنے سماعتیں بھی مکمل ہو چکی ہیں۔ 

 

انتظامیہ کے مطابق تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا چکے ہیں اور اب حتمی فیصلہ ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے کیا جائے گا۔ اگر سماعتوں اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر خلاف ورزیاں ثابت ہوئیں تو متعلقہ اسٹیل ملز کے خلاف مزید قانونی کارروائی یا بندش کے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔

 

اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر باڑہ طلحہ رفیق نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ باڑہ میں سگریٹ سازی کے 6 کارخانوں میں سے صرف ایک فعال ہے جبکہ باقی بند ہیں۔ اسی طرح آٹے کی چھ ملز میں سے دو فعال ہیں جبکہ متعدد اسٹیل ملز اور دیگر صنعتی یونٹس مختلف سطحوں پر کام کر رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ ماحولیاتی آلودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اب تک 16 اسٹیل ملز کو باضابطہ سماعتی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کے تحت ضلعی انتظامیہ کے پاس معائنہ، جرمانہ اور رپورٹنگ کا اختیار موجود ہے، تاہم کسی صنعتی یونٹ کو مکمل طور پر بند یا سیل کرنے کا اختیار ڈائریکٹر جنرل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے پاس ہے۔

 

 

طلحہ رفیق نے مزید بتایا کہ مزید 23 صنعتی یونٹس کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں اور انہیں فلٹریشن سسٹم نصب کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ وقتاً فوقتاً انسپکشن کرتی ہے اور جہاں فلٹر غیر فعال یا ناقص پائے جاتے ہیں وہاں جرمانے عائد کیے جاتے ہیں۔

 

اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق بعض صنعتی یونٹس رات کے اوقات میں، جب سرکاری دفاتر بند ہوتے ہیں، فلٹر بند کرکے کارخانے چلانے کی کوشش کرتے ہیں جس سے آلودگی کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اس رجحان کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے۔

 

انہوں نے ایک فعال سگریٹ فیکٹری کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی آبادی کی جانب سے دھوئیں اور بدبو کی شکایات موصول ہونے پر فوری کارروائی کی گئی، جس کے بعد فیکٹری میں جدید فلٹریشن اور ایگزاسٹ سسٹم نصب کیا گیا۔ ان کے مطابق اصلاحی اقدامات کے بعد مقامی لوگوں کی شکایات میں نمایاں کمی آئی ہے۔

 

طلحہ رفیق کا کہنا تھا کہ متعدد کارخانوں پر دھواں خارج کرنے اور فلٹریشن سسٹم نہ لگانے کے باعث جرمانے عائد کیے جا چکے ہیں جبکہ بعض ذمہ دار افراد کو قانونی کارروائی کے تحت جیل بھی بھیجا گیا، تاہم موجودہ قانونی فریم ورک کے تحت صنعتی یونٹس کو بند کرنے کا اختیار ضلعی انتظامیہ کے پاس نہیں۔

 

ماہرین کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر میں صنعتی ترقی مقامی معیشت اور روزگار کے لیے خوش آئند ہے، تاہم اس ترقی کو پائیدار بنانے کے لیے ماحولیاتی تحفظ، مزدوروں کی سلامتی، جدید فلٹریشن سسٹمز، فضائی آلودگی کی مؤثر نگرانی اور فلاحی اقدامات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

 

 عوامی حلقوں کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ صنعتی ترقی اور عوامی فلاح کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ ماحول اور انسانی صحت کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔