وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ افغان طالبان پر اس وقت اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ ایک طرف ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کراتے ہیں، لیکن دوسری طرف عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔

 

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم ٹی ٹی پی کی حمایت میں اب تک کوئی واضح کمی نہیں آئی۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں بارشوں کی نئی پیشگوئی، کن اضلاع میں ہوگی برسات؟

 

ان کے مطابق طالبان حکام ملاقاتوں میں زبانی طور پر ٹی ٹی پی کو روکنے کی بات کرتے ہیں، تاہم تحریری یقین دہانی دینے سے گریز کرتے ہیں۔

 

وزیر دفاع نے کہا کہ اگر طالبان واقعی اپنا مؤقف بدل چکے ہیں تو اس کا اعلان میڈیا رپورٹس کے بجائے افغان قیادت کی جانب سے باضابطہ طور پر ہونا چاہیے۔

 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغانستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک سہ فریقی تحریری معاہدہ بھی ہوا تھا، لیکن اس کے کسی نکتے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں افغان طالبان پر اعتبار کرنا مشکل ہے۔