گزشتہ روز پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شریک اراکینِ اسمبلی اپنی ہی حکومت سے نالاں نظر آئے۔ اجلاس کی صدارت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کی۔

پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں 92 میں سے 57 اراکینِ اسمبلی نے شرکت کی، جبکہ کئی ارکان بیرونِ ملک دوروں کی وجہ سے شریک نہ ہو سکے۔

 

ذرائع کے مطابق اجلاس میں ایم پی ایز نے مختلف محکموں سے متعلق وزیراعلیٰ کو شکایات کے انبار لگا دیے۔ بیوروکریسی اور پولیس کے خلاف بھی متعدد شکایات سامنے لائی گئیں۔

اجلاس میں درجنوں اراکینِ اسمبلی نے وزیراعلیٰ کے سامنے اپنی بے بسی کا اظہار کیا، جبکہ وزیراعلیٰ نے کسی بھی رکن کو جواب دینے کے بجائے صرف نکات نوٹ کیے۔

 

اراکینِ اسمبلی نے شکایت کی کہ کرپشن بیوروکریسی اور پولیس کرتی ہے، لیکن الزام ہم پر عائد ہوتا ہے۔ اجلاس میں شریک ارکان نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے دور میں حالات بہتر تھے اور ان کے دور کی کھل کر تعریف کی گئی۔

 

پارٹی ذرائع کے مطابق بعض اراکین نے اجلاس میں کہا کہ پہلے 8 سے 10 ہزار روپے رشوت لی جاتی تھی، اب یہ رقم دگنی ہو چکی ہے۔ ایک رکن نے شکایت کی کہ پہلے ایس ایچ او آنکھیں دکھاتا تھا، اب تو پولیس کا سپاہی بھی ہماری بات نہیں مانتا۔ ڈی سی اور اے سی کہتے ہیں کہ ہمیں آپ نے نہیں بلکہ کسی اور نے یہاں تعینات کیا ہے۔ بیوروکریسی کھل کر کہتی ہے کہ آپ کی بات کیوں مانیں، آپ خود بے اختیار ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: "تمام اراکین متحد ہیں"؛ وزیراعلیٰ کا دعویٰ، مخالفین کیلئے واضح پیغام

 

 

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوہاٹ کے ڈی پی او کو ہٹانے کے لیے دو صوبائی وزرا کی کوششیں بھی کامیاب نہ ہو سکیں۔

اراکینِ اسمبلی نے وزیراعلیٰ کو شکایت کی کہ سیکریٹریٹ میں ہر بار کہا جاتا ہے کہ صاحب میٹنگ میں ہیں اور ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔

 

اجلاس میں لوئر چترال کے حلقہ پی کے-2 سے منتخب پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی فاتح الملک نے کہا کہ نہ ان کے کام ہوتے ہیں اور نہ ہی مسائل حل کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کے پاس کوئی اختیارات بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ کو زبانی طور پر اپنا استعفیٰ پیش کرنے کا بھی کہا۔

 

اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اراکین کو ہدایت کی کہ وہ بجٹ کی تیاری کریں اور ہر منگل کو اڈیالہ جیل بھی جایا کریں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔