پختونخوا ہاؤس اسلام آباد  میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 26 نمبر چونگی پر پہنچنے پر معلوم ہوا انتظامیہ نے تمام راستے بند کر رکھے تھے، ساڑھے چار کروڑ عوام کے منتخب نمائندوں کو اسلام آباد میں روکنا افسوسناک اقدام ہے۔

 

انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسلام آباد پولیس نے خیبرپختونخوا کے نمائندوں کو روکنے کے لیے فائرنگ کی، نہتے عوام پر گولیاں چلانا آسان مگر عمران خان کو علاج کے لیے ہسپتال منتقل کرنا مشکل بنا دیا گیا ہے۔

 

سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور معدنیات فراہم کر رہا ہے جبکہ بدلے میں وفاق گیس اور پنجاب گندم بند کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این ایف سی میں صوبے کو اس کا حق نہیں دیا جا رہا اور اوپر سے گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں:  خیبرپختونخوا میں آج بارش کہاں کہاں ہوگی، تفصیلات سامنے آگئیں

 

وزیراعلیٰ نے مطالبہ کیا کہ عمران خان کا علاج شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ان کی فیملی اور ذاتی معالجین کی نگرانی میں کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ سنجیدہ ہے اور پوری قوم چاہتی ہے کہ انہیں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے جمعہ کو احتجاج کی کال دی ہے اور تمام پارلیمنٹرینز اپنے اضلاع میں احتجاج کریں گے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستانی قوم دھونس اور گولیوں سے خوفزدہ ہونے والی نہیں اور وہ اپنے لیڈر کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔