طارق بن نواز

 

نئے تعلیمی سال کے آغاز پر سابقہ فاٹا اور بلوچستان کی طالبات کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے۔

 

 پنجاب کے شہر لاہور میں واقع یونیورسٹی آف لاہور نے ان علاقوں کی طالبات کے لیے پانچ، پانچ خصوصی سیٹیں مختص کرنے کا اعلان کردیا ہے، یعنی سابقہ فاٹا کی طالبات کے لیے 5 اور بلوچستان کی طالبات کے لیے 5 سیٹیں رکھی گئی ہیں۔

 

 ان سیٹوں پر منتخب طالبات کو مکمل مفت تعلیم، مفت ہاسٹل اور مفت میس کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

 

یہ  بھی پڑھیے: بینک ڈکیتی میں مطلوب ملزمان پولیس حراست میں کیسے ہلاک ہوئے؟

 

 

پاکستان کی مختلف جامعات ہر سال فاٹا اور بلوچستان کے طلبہ و طالبات کے لیے کوٹہ اور اسکالرشپ پروگرام بھی دیتی ہیں، جن کے تحت ٹیوشن فیس میں مکمل یا جزوی رعایت فراہم کی جاتی ہے، تاہم یہ سہولیات پالیسی اور فنڈنگ کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔

 

یہ سہولت خاص طور پر ان طالبات کے لیے ہے جو پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرتی ہیں۔

 

 

 اس اقدام کو تعلیمی حلقوں کی جانب سے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو خواتین کی تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔

 

اس حوالے سے خیبر پختونخوا انیشی ایٹو سوسائٹی کے صدر رومان خان مروت نے ٹریبل نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ طویل جدوجہد اور مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق یونیورسٹی انتظامیہ کو بارہا اس مسئلے کی طرف متوجہ کیا گیا، جس کے بعد یہ خصوصی سہولت منظور کی گئی۔

 

انہوں نے کہا کہ اب فاٹا اور بلوچستان کی طالبات بلا جھجھک ان سیٹوں کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ ان کے بقول یہ اقدام صرف تعلیمی مواقع نہیں بلکہ ان علاقوں کی بیٹیوں کے لیے روشن مستقبل، ترقی اور خودمختاری کی نئی راہیں کھولنے کے مترادف ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ان سیٹوں پر داخلہ میرٹ کی بنیاد پر ٹیسٹ کے ذریعے دیا جائے گا، تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

 

یونیورسٹی آف لاہور ملک کی معروف نجی جامعات میں شمار ہوتی ہے، جو جدید تدریسی سہولیات، معیاری تحقیق اور بین الاقوامی معیار کی تعلیم کے باعث قومی و عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔ 

 

جامعہ میں میڈیسن، انجینئرنگ، آرٹس اور سوشل سائنسز سمیت مختلف شعبہ جات میں تعلیم دی جاتی ہے، جبکہ کیو ایس ایشیا رینکنگ میں بھی اسے پاکستان کی نمایاں جامعات میں شامل کیا جاتا ہے۔