کچھ دن پہلے میں صبح اٹھ کر آن لائن ہوئی تو واٹس ایپ پر ایک جاننے والی کا اسٹیٹس دیکھا۔ لکھا تھا: “میرے چچا کا انتقال ہو گیا ہے، براہِ کرم دعا کریں” اور ساتھ مرحوم کی ایک تصویر بھی لگائی گئی تھی۔

 

 یہ دیکھ کر میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ آخر ہم ایسی حساس خبر سوشل میڈیا اسٹیٹس، ٹک ٹاک یا فیس بک پر اتنی آسانی سے کیوں شیئر کر دیتے ہیں؟ کیا یہ واقعی مناسب ہے کہ کسی کی پرائیویسی، عزت اور آخری یاد کو اس طرح سب کے سامنے لایا جائے؟

 

آج کے دور میں سوشل میڈیا ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔ ہم اپنی خوشیاں، سفر، تقریبات اور روزمرہ کے لمحات فوراً دوسروں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ مگر جب بات کسی کی موت کی آتی ہے تو یہ معاملہ صرف ایک خبر نہیں رہتا بلکہ ایک انتہائی حساس، جذباتی اور اخلاقی ذمہ داری بن جاتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا کے کن علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے؟ پی ڈی ایم اے نے بتا دیا

 

 اکثر لوگ بغیر سوچے سمجھے مرحوم کی تصویر اور تفصیلات شیئر کر دیتے ہیں، جیسے یہ بھی ایک عام سا اسٹیٹس ہو، حالانکہ یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جس میں سب سے زیادہ احترام اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

پرانے وقتوں میں جب کسی کے انتقال کی خبر دی جاتی تھی تو اس میں ایک سنجیدگی اور وقار ہوتا تھا۔ مسجد کے لاؤڈ اسپیکر، محلے کے بزرگ یا قریبی رشتہ دار انتہائی احترام کے ساتھ یہ اطلاع دیتے تھے تاکہ لوگ دعا بھی کریں اور تعزیت کے لیے بھی پہنچ سکیں۔

 

 اس طریقے میں نہ تو جلد بازی تھی اور نہ ہی جذبات کی نمائش، بلکہ ایک تہذیب اور پرائیویسی کا خیال رکھا جاتا تھا۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں یہ توازن کافی حد تک بدل چکا ہے، کیونکہ خبر چند سیکنڈ میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، مگر اس رفتار میں اکثر ہم احساس اور ادب کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

 

اصل مسئلہ وہاں  پیدا ہوتا ہے جہاں مرحوم کی تصویر یا ذاتی تفصیلات خاندان کی اجازت کے بغیر شیئر کر دی جاتی ہیں۔ یہ عمل بظاہر چھوٹا لگتا ہے لیکن اس کے اثرات بہت گہرے ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات یہ خاندان کے دکھ کو مزید بڑھا دیتا ہے، کیونکہ ہر کوئی اپنے غم کو عوامی نظروں میں لانا پسند نہیں کرتا۔

 

 

 اسلام اور عمومی اخلاقیات دونوں ہمیں یہی سکھاتے ہیں کہ کسی بھی فوت شدہ شخص کے بارے میں بات کرتے ہوئے انتہائی ادب، احتیاط اور احترام کو مقدم رکھا جائے، کیونکہ موت کے بعد انسان کو شہرت نہیں بلکہ دعا اور سکون کی ضرورت ہوتی ہے۔

 

اکثر لوگ یہ کام نیک نیتی سے کرتے ہیں۔ ان کا مقصد ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مرحوم کے لیے دعا کریں اور اس کے حق میں مغفرت طلب کریں۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ رجحان بعض اوقات دکھاوے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جذباتی پوسٹس، لمبے کیپشنز اور تصاویر تو بہت نمایاں ہو جاتی ہیں، مگر اصل چیز یعنی خلوص کے ساتھ دعا، قرآن خوانی اور عملی مدد کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ 

 

یہی وہ قت  ہوتا ہے جہاں ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی مرحوم کے لیے کچھ کر رہے ہیں یا صرف ایک پوسٹ شیئر کر کے اپنا فرض سمجھ رہے ہیں؟

 

ایک اور اہم پہلو پرائیویسی کا ہے۔ ہر خاندان اس بات پر متفق نہیں ہوتا کہ ان کے عزیز کی تصویر یا تفصیلات سوشل میڈیا پر عام کی جائیں۔ کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ غم کو خاموشی، وقار اور ذاتی دائرے میں رکھا جائے، اور یہ ان کا مکمل حق ہے۔ موت کوئی مواد یا “کانٹینٹ” نہیں ہے جسے ہم اپنی مرضی سے شیئر کریں، بلکہ یہ ایک انسانی سانحہ ہے جس کے ساتھ حساسیت اور احترام لازم ہے۔

 

 

اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں سوشل میڈیا کے استعمال میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ اگر واقعی خبر دینا ضروری ہو تو اسے سادہ، مختصر اور باوقار انداز میں دیا جائے، بغیر کسی غیر ضروری تصویر یا جذباتی نمائش کے۔ 

 

اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ مرحوم کے لیے دعا کی جائے، اس کے لیے خیرات اور نیک اعمال کیے جائیں، اور اس کے اہل خانہ کے ساتھ حقیقی ہمدردی کا اظہار کیا جائے، نہ کہ صرف آن لائن موجودگی کا۔

 

بلاگ کے اختتام پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا صرف ایک ذریعہ ہے، اسے مقصد نہیں بنانا چاہیے۔ یہ لوگوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے بنایا گیا ہے، نہ کہ کسی کے ذاتی دکھ اور غم کو عوامی نمائش میں تبدیل کرنے کے لیے۔

 

 اگر اس کا استعمال شعور، احترام اور ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے تو یہ ایک مثبت پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اگر اس میں لاپرواہی اور دکھاوے کا عنصر غالب آ جائے تو اس کی اصل افادیت متاثر ہو جاتی ہے۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔