لنڈی کوتل میں پاک افغان شاہراہ پر ٹرانسپورٹرز کا احتجاج جاری ہے، جہاں گزشتہ آٹھ ماہ سے طورخم بارڈر کی بندش کے باعث افغانستان میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز اور ان کی گاڑیوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

 

احتجاجی مظاہرے کے دوران ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات بھی ہوئے، جن میں اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر اور ایس ایچ او لنڈی کوتل پولیس اسٹیشن عشرت شینواری نے شرکت کی۔ اس موقع پر سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی موجود تھے۔

 

یہ بھی پڑھیے: جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا بازار میں ریموٹ کنٹرول دھماکا

 

ٹرانسپورٹرز اور سیاسی رہنماؤں نے اسسٹنٹ کمشنر کو تین روز کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر اس مدت کے اندر افغانستان میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز اور ان کی گاڑیوں کی واپسی یقینی نہ بنائی گئی تو پاک افغان شاہراہ پر شدید احتجاج کیا جائے گا اور افغانستان جانے والے افغان خاندانوں کی گاڑیوں کی آمد و رفت بھی روک دی جائے گی۔

 

 

اسسٹنٹ کمشنر لنڈی کوتل انعام اللہ وزیر نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ مسئلے کے حل کے لیے متعلقہ اعلیٰ حکام سے فوری رابطہ کیا جائے گا اور معاملہ ترجیحی بنیادوں پر اٹھایا جائے گا۔

 

اس موقع پر خیبر سیاسی اتحاد کے صدر مراد حسین آفریدی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما حاجی شاہ حسین شینواری نے بھی ٹرانسپورٹرز کو یقین دلایا کہ تمام سیاسی جماعتیں ان کے ساتھ کھڑی ہیں اور مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھیں گی۔

 

مقررین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گزشتہ آٹھ ماہ سے افغانستان میں پھنسے پاکستانی ٹرانسپورٹرز اور ان کی گاڑیوں کی فوری واپسی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ متاثرہ افراد اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔