اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم عمر حیات نے دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا اور مقدمے کو جھوٹا اور پلانٹڈ قرار دیا۔
سماعت کے دوران ملزم نے بعض سوالات کے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف اپنے وکیل کی موجودگی میں ہی بات کرے گا۔ تاہم بعد ازاں اس نے عدالت میں اپنا تفصیلی بیان ریکارڈ کرایا اور تمام الزامات کی تردید کر دی۔
ملزم نے عدالت کو بتایا کہ نہ وہ ثنا یوسف کے گھر گیا، نہ اس نے کوئی گاڑی کرائے پر لی، اور نہ ہی اس کا موبائل فون چوری یا قتل سے کوئی تعلق ہے۔ اس کے مطابق اسے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا اور پورا مقدمہ جعلی کہانی پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سی این جی بندش پر وزیراعلیٰ کے پی کا بڑا مطالبہ، وزیراعظم شہباز شریف کو خط میں کیا لکھا؟
عدالت میں جج نے استفسار کیا کہ کیا کرائے کی گاڑی لی گئی تھی اور فیس ادا کی گئی تھی، جس پر ملزم نے انکار کرتے ہوئے کرایہ نامے کو جعلی قرار دیا اور کہا کہ تفتیشی افسر نے جھوٹا کیس بنایا ہے۔
ملزم نے مزید کہا کہ اسے جڑانوالہ سے گرفتار کیا گیا، پولیس نے تھانے میں اس کی تصاویر بنائیں اور بعد میں انہیں وائرل کیا گیا۔ اس کے مطابق تفتیش کے دوران اس سے زبردستی اعتراف لیا گیا اور خالی کاغذات پر انگوٹھا لگوایا گیا۔
عمر حیات نے دعویٰ کیا کہ وہ وقوعے کے وقت فیصل آباد میں موجود تھا، جبکہ شناخت پریڈ اور دیگر شواہد من گھڑت ہیں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اس کے خلاف پیش کیے گئے فنگر پرنٹس اور لوکیشن رپورٹ درست نہیں۔
اس نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ واقعے سے مطابقت نہیں رکھتی اور پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا۔
سماعت کے دوران وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ہر بیان کے آخر میں مقدمے کو جھوٹا قرار دیا جائے، تاہم جج نے اس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہ کیا جائے۔
عدالت نے ملزم عمر حیات کا دفعہ 342 کا بیان مکمل ریکارڈ کرنے کے بعد کیس کی مزید سماعت کل تک ملتوی کر دی۔
