نویں، دسویں اور ایف اے، ایف ایس سی کے حالیہ بورڈ امتحانات میں بطور نگران ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے جو کچھ دیکھنے کو ملا، وہ محض ایک امتحانی عمل نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سال امتحانی نظام کو شفاف بنانے اور نقل کے خاتمے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے۔ امتحانی ہالز میں سختی بڑھائی گئی اور پہلی بار نگرانی کے لیے بی ایس گریجویٹس کو تعینات کیا گیا۔
سوات بورڈ کے مطابق اس اقدام کا مقصد میرٹ کو فروغ دینا، سفارش کلچر کو کم کرنا اور تعلیمی نظام کو بہتر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سونے کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ
بظاہر یہ اقدامات ایک مثبت پیش رفت محسوس ہوتے ہیں، مگر امتحانی ہال کے اندر کی صورتحال نے کئی تلخ حقائق بے نقاب کیے۔ جیسے ہی نقل کا مکمل خاتمہ کیا گیا، خاص طور پر سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی کارکردگی میں واضح کمی سامنے آئی۔
متعدد طلبہ پورا وقت بیٹھے رہے مگر پرچے میں کچھ خاص نہ لکھ سکے، حتیٰ کہ بعض نے خالی جوابی کاپیاں جمع کروائیں۔ یہ منظر محض سختی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس نظام کی کمزوری کی علامت ہے، جہاں طلبہ کی بنیادی تیاری ہی موجود نہیں ہوتی۔

اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو مسئلہ صرف امتحانی ہال تک محدود نہیں۔ سرکاری اسکولوں میں تدریسی نظام مجموعی طور پر کمزور دکھائی دیتا ہے۔
گورنمنٹ اسکول کی طالبات کے مطابق وہ روزانہ صبح سات بجے سے دوپہر ڈھائی بجے تک اسکول میں موجود رہتی ہیں، اساتذہ بھی آتے ہیں، مگر باقاعدہ کلاسز کا نظام مؤثر نہیں ہوتا۔ خاص طور پر سائنسی مضامین کی صورتحال زیادہ خراب ہے۔
بعض اسکولوں میں متعلقہ مضامین کے اساتذہ موجود ہی نہیں، اور جہاں موجود ہیں وہاں بھی اکثر باقاعدہ کلاسز نہیں لی جاتیں۔ اسی وجہ سے طلبہ پورا سال اسکول آنے کے باوجود بنیادی تصورات سے محروم رہتے ہیں۔
طلبہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں سال بھر نہ تو باقاعدہ ٹیسٹس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور نہ ہی مکمل نصاب پڑھایا جاتا ہے۔ نتیجتاً جب امتحانات میں سختی کی جاتی ہے اور نقل روکی جاتی ہے تو ان کے لیے سوالات حل کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف سرکاری اساتذہ اس صورتحال کی ایک مختلف وجہ بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سرکاری اسکولوں کے طلبہ پر نہ گھر کی طرف سے تعلیمی دباؤ ہوتا ہے اور نہ ہی ادارہ جاتی سطح پر سنجیدگی دکھائی دیتی ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ جب وہ طلبہ پر سختی کرنے یا انہیں پڑھائی کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو بعض اوقات انتظامیہ کی جانب سے بھی نرم رویہ اختیار کرنے کا کہا جاتا ہے۔
اساتذہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بہت سے والدین چونکہ اپنے بچوں کو مفت تعلیم دلا رہے ہوتے ہیں، اس لیے وہ ان کی تعلیمی کارکردگی کے بارے میں زیادہ پوچھ گچھ نہیں کرتے، جبکہ یہی والدین اگر اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کروائیں تو ان کی تعلیم، ٹیسٹس اور کارکردگی کے بارے میں مسلسل فکر مند رہتے ہیں۔
بعض اساتذہ کے مطابق جب طلبہ امتحانات کے علاوہ باقاعدگی سے کلاسز میں حاضر ہی نہ ہوں تو نصاب مکمل کروانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف نجی اسکولوں کے طلبہ کی صورتحال نسبتاً مختلف رہی۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ نجی ادارے امتحانی ہال میں نرم رویہ رکھنے پر سفارش کرتے ہیں، اور نجی اسکولوں کے طلبہ نقل کو معمول سمجھتے ہیں۔ تاہم جب سختی کی گئی اور نقل روکی گئی تو بھی انہوں نے مکمل خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ اپنے علم اور تصورات کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ لکھتے رہے۔
اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نجی اسکولوں میں عموماً نصاب مکمل کروایا جاتا ہے، باقاعدہ ٹیسٹ لیے جاتے ہیں اور طلبہ مسلسل امتحانی دباؤ میں رہتے ہیں۔
اس سال ایک اور اہم پہلو ای-مارکنگ سسٹم کی صورت میں سامنے آیا۔ اس نظام کے تحت طلبہ کو مخصوص طریقہ کار کے مطابق جوابات لکھنے ہوتے ہیں، مگر سرکاری اسکولوں کے طلبہ اس پیٹرن سے تقریباً ناواقف تھے۔

انہوں نے نہ صرف سوالات حل کرنے میں مشکلات کا سامنا کیا بلکہ جوابی کاپی کی پریزنٹیشن میں بھی نمایاں کمزوریاں دکھائیں۔ اس کے برعکس نجی اسکولوں کے طلبہ اس طرز سے کسی حد تک واقف تھے کیونکہ نجی اداروں میں پہلے ہی اسی طرز پر امتحانات لیے جا چکے تھے، جس کی وجہ سے وہ نسبتاً بہتر کارکردگی دکھانے میں کامیاب رہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر والدین اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل نہیں کروا سکتے۔ معاشی حالات بہت سے خاندانوں کو سرکاری اسکولوں تک محدود رکھتے ہیں۔ ایسے میں اگر سرکاری تعلیمی نظام کمزور ہوگا تو اس کا براہ راست نقصان انہی طلبہ کو ہوگا جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف نقل کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی ڈھانچے کا ہے۔ اگر طلبہ کو سال بھر مناسب تعلیم، رہنمائی اور جانچ کا نظام نہ ملے تو امتحان میں اچھی کارکردگی کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ لہٰذا فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
سرکاری اسکولوں میں باقاعدہ ماہانہ ٹیسٹ سسٹم متعارف کروایا جائے، نصاب کی مکمل تدریس کو یقینی بنایا جائے، سائنسی مضامین کے اساتذہ کی کمی دور کی جائے اور اساتذہ کی کارکردگی پر مؤثر نگرانی کی جائے۔
غیر ضروری تعطیلات کا خاتمہ اور تعلیمی ماحول کو سنجیدہ بنانا بھی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ طلبہ میں نقل کے بجائے سیکھنے کے رجحان کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حالیہ امتحانات نے ایک واضح پیغام دیا ہے: نقل کے خاتمے سے اصل کارکردگی سامنے آ جاتی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے تعلیمی نظام کی بنیادوں کو مضبوط بنایا جائے تاکہ آنے والے سالوں میں طلبہ نہ صرف نقل کے بغیر امتحانات دے سکیں بلکہ حقیقی علم کے ساتھ کامیابی حاصل کریں۔
