صوبہ خیبر پختونخوا خصوصاً بنوں ریجن ایک بار پھر ایسے حساس اور پیچیدہ مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں دہشت گردی کی نئی لہر اب صرف سیکورٹی فورسز تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات براہِ راست شہری آبادی، بازاروں اور روزمرہ زندگی پر پڑنے لگے ہیں۔
جنوبی اضلاع بالخصوص بنوں، لکی مروت اور ملحقہ علاقوں میں دہشت گرد عناصر مسلسل کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ حالات اس جانب اشارہ کررہے ہیں کہ جنگ اب پہاڑوں اور دور افتادہ علاقوں سے نکل کر شہروں، بازاروں اور عوامی مقامات تک منتقل ہوتی جارہی ہے۔
ماضی میں بھی اس خطے نے بدامنی، خودکش حملوں، ٹارگٹ کلنگ اور عسکریت پسندی کے سخت ادوار دیکھے، مگر موجودہ صورتحال اس اعتبار سے زیادہ سنگین دکھائی دے رہی ہے کہ اب عام شہری بھی براہِ راست اس آگ کی لپیٹ میں آنے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں خاتون لیکچرر کو طلبہ کی جانب سے ہراسانی، اصل معاملہ کیا ہے؟
دو روز قبل بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں دہشت گردی کا ایک بڑا واقعہ پیش آیا، جس میں 15 پولیس اہلکار شہید ہوگئے۔ حملہ آور نہ صرف اس کارروائی میں کامیاب رہے بلکہ پولیس کا اسلحہ اور دیگر سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ یہ واقعہ محض ایک حملہ نہیں بلکہ ریاستی رٹ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکورٹی نظام کیلئے ایک کھلا چیلنج تھا۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد پولیس نے اندرونی سطح پر حکمتِ عملی ترتیب دیتے ہوئے ایک “پولیس امن کمیٹی” تشکیل دی اور دہشت گردوں کے خلاف اچھے اور برے دونوں عناصر کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا۔
بنوں ریجن میں اس سے قبل لکی مروت پولیس بھی اسی طرز پر بغیر وردی کے دہشت گردوں کے خلاف متحرک رہی ہے، جہاں مقامی سطح پر اہلکار خفیہ انداز میں کارروائیاں کرتے رہے ہیں۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب روایتی پولیسنگ سے نکل کر ایک غیر روایتی، پیچیدہ اور طویل مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔
گزشتہ روز انہی کارروائیوں اور اعلانات کے بعد رات کی تاریکی میں دہشت گردوں نے بنوں شہر کو لاکھوں کی آبادی سے ملانے والے اہم رابطہ پل “لیڑہ پل” کو بارودی مواد سے تباہ کردیا، جس کے نتیجے میں جانی خیل، بکاخیل، میریان اور دیگر علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی دہشت گرد عناصر کسی ریاست یا معاشرے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں تو وہ سب سے پہلے مواصلاتی نظام، شاہراہوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہیں تاکہ خوف، بے یقینی اور تنہائی کو فروغ دیا جاسکے۔ “لیڑہ پل” کی تباہی بھی اسی خطرناک حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب ضلع لکی مروت کی تحصیل سرائے نورنگ میں دہشت گردوں نے گنجان بازار میں شہری آبادی کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا۔ دھماکہ ایسے وقت میں کیا گیا جب لوگ خریداری، سودا سلف اور روزمرہ ضروریاتِ زندگی میں مصروف تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک لوڈر رکشہ میں نصب کیا گیا تھا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ پورا بازار لرز اٹھا، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔
واقعے کے فوری بعد ریجنل پولیس آفیسر سجاد خان نے جائے وقوعہ اور ہسپتال کا دورہ کیا، زخمیوں کی عیادت کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ تاہم سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آخر کب تک عوام صرف تعزیتیں، مذمتی بیانات اور وقتی کارروائیاں سنتے رہیں گے؟

بنوں ریجن کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، اغواء اور دہشت گردی کے دیگر واقعات کے ساتھ جینے پر مجبور ہیں۔ مگر موجودہ حالات میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سیکورٹی اہلکاروں، پولیس چوکیوں اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بعد اب یہ جنگ کھلے عام شہری آبادیوں، بازاروں اور عوامی مراکز تک منتقل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین سماجی، سیاسی اور انسانی بحران بنتی جارہی ہے۔
تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ جب ریاستیں بروقت، واضح اور جامع پالیسی اختیار کرنے میں ناکام ہوجائیں تو بدامنی رفتہ رفتہ خانہ جنگی جیسی کیفیت اختیار کرلیتی ہے۔
عراق، شام اور افغانستان جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جہاں ابتدا چند حملوں سے ہوئی مگر بعد ازاں پورا معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوگیا۔ اگر خیبر پختونخوا خصوصاً بنوں ریجن میں فوری طور پر مؤثر حکمتِ عملی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سیاسی اتفاقِ رائے اور عوامی اعتماد کی بحالی کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ حالات مزید سنگین رخ اختیار کرسکتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ وقتی ردِعمل کے بجائے ایک جامع، واضح اور دیرپا پالیسی مرتب کی جائے، جس میں صرف عسکری کارروائیاں ہی نہیں بلکہ عوامی تحفظ، نوجوانوں کی بحالی، سرحدی نگرانی، مقامی کمیونٹی کی شمولیت اور سیاسی استحکام کو بھی شامل کیا جائے۔
بصورتِ دیگر یہ آگ مزید پھیل سکتی ہے، اور پھر ہر سڑک، ہر گلی، ہر بازار اور ہر شہر انسانی خون سے رنگین نظر آسکتا ہے۔,
