نازیہ سالارزئی
“ارے وہ دیکھو پاگل کھڑا ہے، آؤ اسے ذرا تنگ کرتے ہیں، اس کو تنگ کرنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔”
یہ جملہ شاید ہم میں سے اکثر لوگوں نے کبھی نہ کبھی سنا ہوگا۔ روزمرہ زندگی میں جب ہم سڑک، بازار یا کسی بھی عوامی جگہ سے گزرتے ہیں تو کسی نہ کسی ذہنی مریض پر نظر پڑ جاتی ہے، اور بدقسمتی سے اکثر بچے اور بعض بڑے بھی انہیں مذاق، ہنسی اور تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں۔
لیکن کیا ہم نے کبھی یہ سوچا ہے کہ ہمارا یہ قہقہہ کسی انسان کے دل کو کتنا گہرا زخم دے سکتا ہے؟ جو شخص پہلے ہی ذہنی اذیت، تنہائی اور بے بسی کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے، اس پر ہمارا یہ رویہ اس کی تکلیف کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ ہمیں یہ سب مذاق لگتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ ایک انسان کی کھلی تذلیل ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں سے لکی مروت تک خوف کی فضا، بازار ،پل اور شہری آبادی نشانے پر
افسوسناک بات یہ ہے کہ اس رویے میں صرف بچے نہیں بلکہ بڑے بھی شامل ہوتے ہیں۔ جب بچے کسی ذہنی مریض کو تنگ کرتے ہیں تو انہیں روکا نہیں جاتا بلکہ اکثر یہ کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ بچہ ہے، سمجھ جائے گا۔ حالانکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں انسان کی سوچ، اخلاق اور رویہ بن رہا ہوتا ہے۔

بچپن میں دی گئی تربیت پوری زندگی انسان کے ساتھ رہتی ہے، اور اگر اسی وقت بچوں کو احساس، ہمدردی اور احترام نہیں سکھایا جائے تو وہ بڑے ہو کر بھی دوسروں کے درد کو نہیں سمجھ پاتے۔
اس میں سب سے اہم کردار والدین کا ہے۔ ماں کی گود کو پہلی درس گاہ کہا جاتا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ بچہ سب سے پہلے اپنے گھر سے ہی سیکھتا ہے۔ اگر والدین بچوں کو دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور عزت سے پیش آنے کی تربیت دیں تو ایک بہتر معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
اسی طرح اسکول کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صرف نصابی تعلیم تک محدود نہ رہے بلکہ بچوں کی اخلاقی اور معاشرتی تربیت پر بھی توجہ دے، کیونکہ ایک اچھا تعلیمی ادارہ وہی ہوتا ہے جو علم کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی سکھائے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی بیماری کو سنجیدہ بیماری کے طور پر نہیں لیا جاتا، حالانکہ یہ بھی ایک بیماری ہے جس کا علاج ممکن ہے۔ مگر افسوس کہ علاج کے بجائے اکثر لوگ اسے چھپاتے ہیں یا مذاق بنا لیتے ہیں۔

ذہنی مریض خود بھی اکثر علاج سے اس لیے گھبراتے ہیں کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے، اور یہی سماجی دباؤ ان کی حالت کو مزید خراب کر دیتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہر وہ شخص جو عام لوگوں سے مختلف انداز میں بات کرے، ضروری نہیں کہ وہ ذہنی مریض ہو۔ بعض لوگ سادہ مزاج ہوتے ہیں اور بغیر زیادہ سوچے بات کرتے ہیں، لیکن ہم انہیں بھی غلط طور پر تضحیک کا نشانہ بنا دیتے ہیں، جو کہ ہماری سوچ کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
کسی کا مذاق اڑانا نہ صرف اخلاقی طور پر غلط ہے بلکہ مذہبی طور پر بھی ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔ دل آزاری ایک ایسا گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں فرماتا۔ اصل انسان وہی ہے جو کمزور کو سہارا دے، نہ کہ اس کی کمزوری پر ہنسے۔
اگر ہم کسی ذہنی مریض کو راستے میں دیکھیں تو ہمارا رویہ ہمدردی، احترام اور ذمہ داری پر مبنی ہونا چاہیے۔ ایسے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کی تضحیک یا مذاق سے گریز کرنا ضروری ہے، کیونکہ یہ ان کی کیفیت کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
معاشرتی سطح پر ہمیں اس بات کو فروغ دینا چاہیے کہ ذہنی بیماری کو بھی دیگر بیماریوں کی طرح سنجیدگی سے لیا جائے اور اس کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے تاکہ لوگ اس کے ساتھ جڑے غلط تصورات سے باہر نکل سکیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم ایسے افراد کو تنہا کرنے کے بجائے انہیں معاشرے کا حصہ سمجھیں اور ضرورت پڑنے پر ان کے اہل خانہ یا متعلقہ اداروں کو باخبر کریں تاکہ انہیں مناسب مدد فراہم کی جا سکے۔ اس رویے سے نہ صرف متاثرہ افراد کو سہارا ملتا ہے بلکہ ایک زیادہ باشعور اور مہذب معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
