اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور انتظامیہ کے مطابق خاتون لیکچرر کے ساتھ ہراسانی کا یہ واقعہ 12 مئی کو دوپہر کے وقت ٹیسٹ کے دوران پیش آیا۔
متاثرہ خاتون ٹیچر نے مبینہ ہراسانی کے بعد وائس چانسلر کے نام لکھے گئے خط میں انکشاف کیا کہ منگل کے روز شعبہ نباتات میں وہ طلبہ سے ٹیسٹ لے رہی تھیں۔ اسی دوران آدھے سے زائد لڑکے کلاس روم میں کھڑے ہوگئے اور انہوں نے ٹیسٹ دینے سے انکار کردیا۔ طلبہ نے سوالات پر مشتمل پرچے پھاڑ دیے اور انہیں ٹیچر کے منہ پر دے مارا۔
خط میں مزید لکھا گیا کہ بدتمیزی کرنے والے طلبہ باہر نکل گئے اور مجھے اور طالبات کو کمرے کے اندر بند کردیا۔ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد شرپسند عناصر کچھ دوسرے لڑکوں کو ساتھ لے کر واپس آگئے، کلاس روم میں داخل ہوئے اور مجھے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ انہوں نے دوپہر 12 بجے تک مجھے گھیرے رکھا۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: دہشت گردوں کو سہولت دینے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
متاثرہ ٹیچر کے مطابق جب وہ کلاس سے باہر نکلیں تو طلبہ نے دوبارہ انہیں گھیر لیا اور ہر صورت پاسنگ نمبر دینے کی دھمکی دی۔ وہ شدید ذہنی دباؤ کے عالم میں بڑی مشکل سے طالبات کے ساتھ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
کلاس روم میں موجود ایک طالبہ کے مطابق ہراسانی کا شکار ہونے والی لیکچرر ایک اصول پسند خاتون ہیں۔ لڑکے چاہتے تھے کہ ٹیسٹ کے دوران سختی نہ کی جائے، تاہم خاتون ٹیچر نے ٹیسٹ شروع ہونے سے قبل طلبہ کو آگاہ کیا تھا کہ اگر کسی کو نقل کرتے یا آپس میں باتیں کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کا ٹیسٹ منسوخ کردیا جائے گا۔
طالبہ کے مطابق یہی وجہ تھی کہ طلبہ نے دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ وہ صرف خاتون ٹیچر ہی نہیں بلکہ ٹیسٹ دینے والی طالبات کو بھی دھمکا رہے تھے۔
اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور، پروفیسر ڈاکٹر سلجوق رحمان نے کہا کہ شعبہ انگریزی کی خاتون ٹیچر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کا فوری نوٹس لے لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ وائس چانسلر کے مطابق رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق اور کوتاہیوں کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
پروفیسر ڈاکٹر سلجوق رحمان نے واضح کیا کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں اساتذہ کے تحفظ اور عزتِ نفس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ ادارے میں شفافیت اور احتساب کے عمل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
اسلامیہ کالج کے ایک سینئر پروفیسر کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران ادارے میں اس نوعیت کے 7 واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں سے تین واقعات خواتین اساتذہ جبکہ کچھ واقعات طالبات کے ساتھ پیش آئے ہیں۔
