گومل یونیورسٹی میں مالی، تعلیمی اور انتظامی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا آغاز
گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں مبینہ مالی، انتظامی، اخلاقی اور تعلیمی بے ضابطگیوں کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انکوائری آفیسر نے وائس چانسلر اور رجسٹرار گومل یونیورسٹی کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے سات روز کے اندر مختلف شعبہ جات سے متعلق مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ٹانک: ڈی آئی خان روڈ پر نامعلوم افراد نے ریسکیو 1122 کے تین اہلکار اغوا کر لیے
انکوائری آفیسر نے اپنے مراسلے میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ شفاف، غیر جانبدار اور میرٹ پر مبنی تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ریکارڈ کی بروقت فراہمی ناگزیر ہے۔
مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ریکارڈ کی عدم فراہمی یا تاخیر کو تحقیقات میں رکاوٹ تصور کیا جائے گا، جس پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
تحقیقات کے دائرہ کار میں گومل یونیورسٹی کے مالی امور، بھرتیاں، ترقیوں، تعلیمی اسناد کی تصدیق، الحاق شدہ کالجز، سیکیورٹی معاملات اور ہراسمنٹ شکایات سمیت متعدد حساس نوعیت کے معاملات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق گومل یونیورسٹی انتظامیہ سے عملے کی سروس فائلیں، مخصوص ملازمین کے مکمل سروس ڈوزیئر، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسناد کی تصدیق، ترقیوں سے متعلق دستاویزات، پروموشن کمیٹی کے اصل اور نظرثانی شدہ منٹس، سلیکشن بورڈ کی سفارشات، حاضری ریکارڈ اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کی پالیسی سے متعلق تمام ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔
گومل یونیورسٹی کے مالی اور پرکیورمنٹ امور کے حوالے سے 2022 سے اب تک کی داخلی و خارجی آڈٹ رپورٹس، مختلف خریداریوں کا مکمل ریکارڈ، خصوصاً فیکلٹی آف الائیڈ ہیلتھ سائنسز سے متعلق پرکیورمنٹ تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ گومل یونیورسٹی کی گاڑیوں کے گزشتہ پانچ برسوں کے ایندھن، مرمت اور لاگ بک کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔
گومل یونیورسٹی کے تعلیمی الحاق کے شعبے میں 2022 سے الحاق شدہ نجی کالجز کی مکمل فہرست، معائنہ رپورٹس، فیسوں کی وصولی کا ریکارڈ، جاری کردہ بی ایس، بی بی اے، ایم پی اے اور بی ایڈ ڈگریوں کی تفصیلات، طلبہ کی تعداد اور امتحانی ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔
ان کالجز کا مکمل ڈیٹا بھی مانگا گیا ہے جو ہائر ایجوکیشن کمیشن یا ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی یا نگرانی کی زد میں رہے۔
اس کے علاوہ گومل یونیورسٹی سے منسلک پنجاب کے ایک نجی کالج کے بی ایس انستھیزیا ڈگری پروگرام، اسکریننگ ٹیسٹ اور عمرہ دستاویزات کی تفصیلات بھی انکوائری کا حصہ بنائی گئی ہیں۔
گومل یونیورسٹی میں بھرتیوں کے معاملے میں 2022 سے اب تک ہونے والی مستقل اور عارضی تقرریوں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا ہے، جس میں اشتہارات، ٹیسٹ، انٹرویوز، تقرری آرڈرز اور تقرری حاصل کرنے والے امیدواروں اور ان کے والدین کے شناختی کارڈز کی نقول بھی شامل ہیں۔
اسی طرح انکوائری آفیسر نے گومل یونیورسٹی کے سونامی ٹریز منصوبے سے متعلق بھی ریکارڈ طلب کیا ہے، جس میں درختوں کی موجودہ تعداد، ان کی کٹائی اور خصوصاً گاؤں کلاچی والا سمیت دیگر علاقوں میں ہونے والی سرگرمیوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
گومل یونیورسٹی کے سیکیورٹی اور ہراسمنٹ سے متعلق معاملات میں وائس چانسلر آفس اور سیکیورٹی سیکشن میں درج تمام شکایات، خصوصاً فیکلٹی آف ویٹرنری کی ایک خاتون پروفیسر اور شعبہ انگریزی کی ایک لیکچرار سے متعلق کیسز کی تفصیلات بھی طلب کی گئی ہیں، جبکہ تعطیلات کے دوران گومل یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں قیام کرنے والے افراد کا ریکارڈ بھی مانگا گیا ہے۔
انکوائری آفیسر نے گومل یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک فوکل پرسن نامزد کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے تاکہ مطلوبہ ریکارڈ کی بروقت فراہمی اور تحقیقات میں مکمل تعاون یقینی بنایا جا سکے۔
