خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم میں 2012 کے دوران صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونے والی سیکنڈری اسکول اساتذہ کی بھرتیوں میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر جعلسازی اور ریکارڈ میں ردوبدل کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

 

 محکمہ تعلیم نے سینیارٹی لسٹ کی جانچ پڑتال کے دوران 436 خواتین اساتذہ کی تقرریوں کو مشکوک قرار دیتے ہوئے ان کے نام فہرست سے خارج کر دیے ہیں، جبکہ ان کی ترقیوں پر بھی فوری پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے:ہنگو: دروڑی بانڈہ میں مارٹر گولہ آبادی پر گر گیا

 

دستیاب تفصیلات کے مطابق مشکوک قرار دیے گئے امیدواروں میں سب سے زیادہ تعداد ضلع ہری پور سے سامنے آئی ہے، جہاں 216 امیدوار اس فہرست میں شامل ہیں۔ 

 

ضلع ایبٹ آباد سے 35، چارسدہ سے 26، بنوں سے 23، ڈیرہ اسماعیل خان سے 22، جبکہ کرک اور مردان سے 20،20 امیدواروں کے نام مشکوک قرار دیے گئے ہیں۔

 

اسی طرح ضلع دیر سے مجموعی طور پر 13، کوہاٹ سے 13، چترال سے 11 خواتین اساتذہ جبکہ سابق فاٹا کے ضم شدہ اضلاع سے 9 امیدوار اس فہرست میں شامل ہیں۔ مالاکنڈ سے 6 امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں، جبکہ بٹگرام، بونیر اور باجوڑ سے بھی ایک، ایک امیدوار اس فہرست کا حصہ ہیں۔

 

متاثرہ امیدواروں میں شامل شہر بانو (فرضی نام) نے انکشاف کیا ہے کہ وہ گزشتہ 14 برس سے تقرری نامے کی منتظر تھیں۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کے ریکارڈ میں آج بھی ان کا نام موجود ہے، تاہم محکمہ تعلیم نے انہیں کبھی تعیناتی نہیں دی۔

 

ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی نئی سینیارٹی لسٹ مرتب کرنے کا عمل شروع کیا گیا۔

 

 جانچ پڑتال کے دوران متعدد ایسے تقرری نامے سامنے آئے جن میں ریکارڈ اور اصل میرٹ لسٹ کے درمیان واضح تضادات پائے گئے۔ بعد ازاں محکمہ تعلیم نے معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کر دیا۔

 

حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے، جسے ایک ماہ کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

محکمہ تعلیم کی جانب سے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی تقرری ناموں، ریگولرائزیشن ریکارڈ، تنخواہوں کی ادائیگی اور خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن کی اصل سفارشات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

 

یہ بھرتیاں عوامی نیشنل پارٹی کے دورِ حکومت کے آخری سال میں کی گئی تھیں، تاہم سابق وزیر تعلیم سردار حسین بابک سمیت متعلقہ حکام نے اس معاملے پر تاحال کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا۔

 

معاملے پر صوبائی وزیر تعلیم ارشد ایوب خان، خیبرپختونخوا پبلک سروس کمیشن اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام نے بھی باضابطہ مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔