ممتاز عالم دین اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی مولانا شیخ محمد ادریس قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق چارسدہ کے علاقے اتمانزئ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں مولانا شیخ محمد ادریس شہید ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جبکہ ہزاروں افراد احتجاج کے لیے جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
پولیس کے مطابق شیخ ادریس شہید کے ساتھ دو سیکیورٹی گارڈز بھی حملے میں زخمی ہوئے ہیں، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مولانا شیخ محمد ادریس مدرسہ حقانیہ میں سینئر مدرس کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ رکن صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) بھی رہ چکے تھے۔ وہ ممتاز عالم دین مولانا شیخ حسن جان مرحوم کے داماد بھی تھے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام، سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ معروف صحافی حامد میر سمیت دیگر اہم شخصیات نے مولانا شیخ محمد ادریس کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
شہید شیخ محمد ادریس کی نمازِ جنازہ آج شام (5 مئی) ساڑھے پانچ بجے ان کے علاقے ترنگزئی میں ادا کی جائے گی۔ تمام حضرات سے شرکت کی درخواست ہے۔
علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
