خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں گورنمنٹ ہائی سکول زین تارا زخہ خیل کے طلبہ نے سکول کی تباہ شدہ عمارت کی بحالی میں تاخیر کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پاک افغان شاہراہ کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ حالیہ سیلاب کے باعث سکول کے 7 کمرے اور واش رومز مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کے بعد وہ کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ مظاہرین کے مطابق متعدد بار محکمہ تعلیم کو درخواستیں دینے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کے باعث احتجاج پر مجبور ہوئے۔
طلبہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر سکول کی عمارت کی تعمیر نو کی جائے تاکہ شدید گرمی اور بارش کے دوران درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے اور تعلیمی سلسلہ متاثر نہ ہو۔
.jpeg)
بعد ازاں ایس ایچ او لنڈی کوتل عشرت علی شینواری کی یقین دہانی پر طلبہ نے پرامن طور پر احتجاج ختم کرتے ہوئے شاہراہ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکمہ تعلیم کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب مقامی عوام نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی ، ایم این اے، ایم پی اے، سیکرٹری تعلیم، ڈی ای او اور ڈی سی خیبر سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں اور سکول کی عمارت کی جلد از جلد بحالی یقینی بنائی جائے۔
