واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران فائرنگ کے واقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے پر انہیں شدید صدمہ ہوا ہے، تاہم یہ اطمینان کی بات ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ اور دیگر شرکاء محفوظ رہے۔
.jpeg)
دوسری جانب صدر پاکستان آصف علی زرداری نے بھی واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول کے محفوظ رہنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس واقعے کو دہشتگردی کی ایک گھناؤنی شکل قرار دیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق واقعہ واشنگٹن کے ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ تقریب کے دوران پیش آیا، جہاں اچانک فائرنگ جیسی آواز سنائی دی جس سے ہال میں بھگدڑ مچ گئی۔ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سیکریٹ سروس اہلکار فوری طور پر صدر ٹرمپ کو محفوظ مقام پر منتقل کر گئے۔
ذرائع کے مطابق تقریب کا باقاعدہ آغاز ہی ہوا تھا کہ صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی، اسی نوعیت کی اطلاع وائٹ ہاؤس کی ترجمان کو بھی دی گئی تھی۔ اس دوران ہال میں موجود شرکاء میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد افراد میزوں کے نیچے چھپ گئے۔

تقریب میں تقریباً 2600 افراد شریک تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک ہلچل کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے اسلحہ نکال لیا جبکہ حملہ آور کو گرفتار کرلیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق حملہ آور مرکزی دروازے کے قریب میگنیٹو میٹر کی جانب بھاگا اور اس دوران ایک سیکریٹ سروس اہلکار کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
