خولہ زرافشاں
مسلمان پورا مہینہ روزے رکھتے ہیں، عبادات میں مصروف رہتے ہیں اور صبر و شکر کے ساتھ رمضان المبارک گزارتے ہیں۔ جیسے ہی عید کا چاند نظر آتا ہے، ہر طرف خوشی کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے۔
فضا میں مسرت گھل جاتی ہے، لوگ ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد دیتے ہیں اور گھروں میں خوشیوں کا سماں قائم ہو جاتا ہے۔
عید کی صبح فجر کی نماز کے بعد ہی گھروں میں خصوصی ناشتے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ ہر گھر میں اپنی روایت اور ذوق کے مطابق ناشتہ تیار کیا جاتا ہے، جو برسوں بلکہ نسلوں سے چلا آ رہا ہوتا ہے۔
چونکہ عیدالفطر کو عموماً “میٹھی عید” کہا جاتا ہے، اس لیے اکثر گھروں میں سوئیاں یا شیر خورمہ ضرور بنایا جاتا ہے، جس کی خوشبو پورے گھر کو مہکا دیتی ہے۔
ہمارا تعلق گاؤں سے تھا، اور وہاں کی عید کی اپنی ایک الگ ہی سادگی، خوشبو اور مٹھاس ہوا کرتی تھی۔ عید کی صبح اکثر گھروں میں سفید چاول پکائے جاتے تھے۔
ان کے ساتھ ایک کٹورے میں گڑ کا شربت، جس پر دیسی گھی کا تڑکا لگا ہوتا، اور دوسرے کٹورے میں تازہ دہی پیش کیا جاتا تھا۔ یہ چاول پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے گھروں میں محبت کے ساتھ بھیجے جاتے تھے۔ اس سادہ مگر لذیذ ناشتے کا ذائقہ آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔
عید کی صبح کا منظر نہایت دلکش ہوتا تھا۔ بچیاں صبح سویرے اٹھتیں، ہاتھوں پر لگی مہندی دھوتیں، نئے کپڑے پہنتیں اور خوشی خوشی گھروں سے نکل پڑتیں۔ ناشتے سے پہلے ہی وہ پڑوسیوں اور عزیزوں کے گھروں میں سوئیاں، چاول اور دہی کے پیالے لے کر جاتیں۔ اگر شادی شدہ بہنوں اور بیٹیوں کے گھر قریب ہوتے تو وہاں بھی یہی ناشتہ بھجوا دیا جاتا۔
یہ تمام اشیاء—چاول، گڑ کا شربت اور تازہ دہی—بڑے سلیقے سے چنگیر میں سجا کر رکھی جاتیں۔ ساتھ ہی گڑ کی خوشبو والی چائے سلور کے چینک میں پیش کی جاتی، جو اس روایت کو مزید خوبصورت بنا دیتی تھی۔
اس روایت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ جو بچے یہ ناشتہ لے کر جاتے، انہیں وہاں سے عیدی بھی ملتی۔ اس وقت ایک یا دو روپے کی عیدی بھی بچوں کے لیے بے حد خوشی کا باعث ہوتی تھی۔ عیدی ملتے ہی بچوں کے چہرے خوشی سے دمک اٹھتے اور وہ مسکراتے ہوئے واپس گھر لوٹتے۔ یہ سادہ مگر محبت بھری روایات عید کی خوشیوں کو مزید یادگار بنا دیتی تھیں۔
بچپن کی عیدیں واقعی اور بھی دلکش ہوتی تھیں۔ عید کے دن ہماری امی انڈے اور گرم گرم پراٹھے تیار کرتیں اور ساتھ ہی پڑوسیوں میں تقسیم کرنے کے لیے میٹھی سوئیاں بھی بناتیں۔
میری ہمیشہ کوشش ہوتی تھی کہ میں صبح جلدی اٹھ کر نماز ادا کروں اور پھر خود جا کر یہ میٹھا پڑوسیوں میں تقسیم کروں۔ اس طرح نہ صرف دعائیں اور محبت ملتی تھیں بلکہ اکثر عیدی بھی نصیب ہو جاتی تھی۔
ناشتے کے بعد محلے کے مرد حضرات—بوڑھے، جوان اور بچے—سب عید کی نماز ادا کرنے کے لیے عید گاہ یا مسجد کا رخ کرتے تھے۔ نماز کے بعد ایک خوبصورت منظر دیکھنے کو ملتا تھا، جب سب لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر عید کی مبارکباد دیتے تھے۔ اس لمحے میں خلوص اور اپنائیت نمایاں ہوتی تھی۔
اس کے بعد محلے کی بزرگ خواتین کو عید کی مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہوتا۔ لوگ احترام کے ساتھ ان کے گھروں میں جا کر سلام کرتے اور انہیں عید کی خوشیوں میں شریک کرتے۔
گاؤں اور محلے میں رشتہ داروں کے گھروں پر آمد و رفت جاری رہتی، جہاں مہمانوں کی تواضع چائے، مٹھائی اور بسکٹ سے کی جاتی۔ ہر طرف خوشگوار ماحول اور مسکراہٹیں بکھری ہوتی تھیں۔
خاص طور پر بچوں کے لیے عید کا دن انتہائی خوشیوں بھرا ہوتا تھا، کیونکہ انہیں اپنے بڑوں سے عیدی ملتی تھی۔ بچے خوشی خوشی عیدی جمع کرتے اور پورے دن ان خوشیوں سے لطف اندوز ہوتے رہتے۔
آج کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود ہمارے گاؤں کی یہ خوبصورت روایات کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہیں۔ اگرچہ طرزِ زندگی میں تبدیلی آ چکی ہے، مگر عید کے دن کے وہی پکوان آج بھی محبت کے ساتھ تیار کیے جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے گھروں میں بھیجے جاتے ہیں۔
اب چونکہ ہم مردان میں رہتے ہیں، اس لیے یہاں کی عید کی صبح کا ناشتہ کچھ مختلف انداز رکھتا ہے۔ زیادہ تر گھروں میں میدے کے پراٹھے، ابلے ہوئے انڈے اور ملائی کے ساتھ ناشتہ کیا جاتا ہے۔
بعض گھروں میں حلوہ پوری اور فرائی چنے بھی بنائے جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ گھروں میں چکن میکرونی، چکن رولز، شامی کباب، کیک اور دیگر اشیاء ناشتے کی میز کا حصہ بنتی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کئی خاندان اب بھی اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے شیر خورمہ اور سوئیاں تیار کر کے اپنے پیاروں کو بھیجتے ہیں۔
درحقیقت، عیدالفطر کا ناشتہ صرف کھانے پینے کا نام نہیں بلکہ یہ محبت، اپنائیت اور روایتوں کی ایک خوبصورت عکاسی ہے۔
یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب خاندان، پڑوسی اور رشتہ دار ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، خوشیاں بانٹتے ہیں اور عید کی اصل روح کو زندہ رکھتے ہیں۔ یہی یادیں وقت کے ساتھ اور بھی قیمتی ہو جاتی ہیں اور دل میں ہمیشہ تازہ رہتی ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
