خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات کو درپیش مالی بحران مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور بیشتر جامعات کے لیے ملازمین کو تنخواہیں اور پنشن جاری رکھنا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مالی وسائل کی کمی کے باعث متعدد جامعات اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے فیسوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے طلبہ اور والدین کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

 

صوبائی جامعات کے مالی معاملات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی جامعات کو دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں کم سرکاری معاونت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کی زیادہ تر جامعات کو بجٹ خسارے کا سامنا ہے اور انتظامیہ کو مالی استحکام برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنا پڑ رہے ہیں۔

رواں مالی سال 2025-26 کے بجٹ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان حکومت نے صوبے کی 7 سرکاری جامعات کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ اگرچہ بلوچستان میں جامعات کی تعداد کم ہے، تاہم وہاں فی جامعہ کے حساب سے دستیاب وسائل نسبتاً بہتر تصور کیے جا رہے ہیں۔

 

 یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا: جامعات میں طالبات کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ 

 


 

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں سرکاری جامعات کی تعداد 34 ہے، جن کے لیے صوبائی حکومت کی جانب سے صرف 10 ارب روپے کی گرانٹ رکھی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق جامعات کی تعداد کے مقابلے میں یہ رقم انتہائی کم ہے، جس کے باعث بیشتر ادارے مالی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں اپنے انتظامی و تعلیمی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

 

پنجاب حکومت نے اپنے صوبے کی 34 سرکاری جامعات کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے ہیں، جو خیبر پختونخوا کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اسی طرح سندھ حکومت نے جامعات کے لیے سب سے زیادہ بجٹ رکھا ہے، جہاں 31 سرکاری جامعات کے لیے سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت 42 ارب 29 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

تعلیمی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں جامعات کی بڑھتی ہوئی تعداد، مہنگائی اور انتظامی اخراجات میں اضافے کے باعث مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صوبائی حکومت کی جانب سے گرانٹس میں خاطر خواہ اضافہ نہ کیا گیا تو جامعات کو نہ صرف مالی بحران کا سامنا رہے گا بلکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

 

ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ جامعات کو درپیش مالی مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مالی استحکام فراہم کیا جا سکے اور طلبہ و اساتذہ کو درپیش مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔