امریکی انتظامیہ نے پشاور میں واقع اپنے قونصل خانے کو مستقل طور پر بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے وفاقی اداروں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں اور تنظیمِ نو کا سلسلہ جاری ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے اس فیصلے سے کانگریس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔

 

 ذرائع کے مطابق پشاور قونصل خانے کی بندش محض ایک سفارتی مرکز کی بندش نہیں بلکہ ٹرمپ دور میں شروع ہونے والی اس وسیع تر تنظیمِ نو مہم کا حصہ ہے، جس کے تحت پہلے ہی امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو عملی طور پر ختم کیا جا چکا ہے۔

 

75 لاکھ ڈالر کی بچت یا سفارتی حکمتِ عملی میں تبدیلی؟

 

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پشاور قونصل خانے کی بندش سے امریکی خزانے کو سالانہ تقریباً 75 لاکھ ڈالر کی بچت ہوگی۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان میں امریکی قومی مفادات کے تحفظ اور فروغ کی صلاحیت متاثر نہیں ہوگی۔

 

یہ بھی پڑھیے: خیبر: وادی تیراہ میں مارٹر گولہ گرنے سے 4 افراد جاں بحق، ایک زخمی

 

پشاور میں قائم یہ قونصل خانہ 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ایک اہم لاجسٹک اور سیکیورٹی مرکز کے طور پر کام کرتا رہا۔ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد اس کی عملی اہمیت میں کچھ کمی ضرور آئی، تاہم اسے مکمل طور پر بند کرنے کے فیصلے کو بعض ماہرین "ٹرمپنومکس" کے سفارتی ورژن سے تعبیر کر رہے ہیں۔

 

پہلا سفارتی مشن بند، کیا مزید بھی ہوں گے؟

 

دلچسپ امر یہ ہے کہ پشاور قونصل خانہ محکمہ خارجہ کی حالیہ تنظیمِ نو کے نتیجے میں بند ہونے والا پہلا مکمل بیرونی سفارتی مشن ہوگا۔ اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ یو ایس ایڈ کو ختم کر کے بیرونی امداد سے متعلق اپنی پالیسی میں بڑی تبدیلی کر چکی ہے۔

 

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی یا پاکستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز کراچی اور پشاور میں امریکی قونصل خانوں کی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل بھی کی گئی تھیں۔

 

ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے بعد پاکستان میں امریکی سفارتی موجودگی زیادہ تر اسلام آباد اور کراچی تک محدود ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے تحت سفارتی مشنز کی تعداد کم کر کے وسائل کو دیگر ترجیحات کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔

 

یاد رہے کہ گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ خارجہ میں ہزاروں سفارتی اہلکاروں کو فارغ کیا تھا، اور اب اس پالیسی کے اثرات عملی طور پر پاکستان میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔