خیبرپختونخو  کے ضلع  دیر بالا میں  پولیس نے مغوی بچے محمد ایان کے اندھے مقدمے کا سراغ لگا کر سفاک قاتل کو گرفتار کر لیا۔

 

پولیس کے مطابق مدعی جواد اللہ ولد تحصیل خان سکنہ دوبندو نے 9 مارچ 2026 کو تھانہ دیر سٹی میں رپورٹ درج کرائی کہ اس کا بھتیجا محمد ایان ولد رحمٰن حسین (عمر تقریباً 7 سے 8 سال) اچانک لاپتہ ہو گیا ہے۔ رپورٹ درج ہونے کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ بچے کے والدین کو مختلف نمبروں سے تاوان کے لیے کالز موصول ہو رہی تھیں جس سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔

 

واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر دیر بالا اسلم نواز (پی ایس پی) نے ایس پی انوسٹی گیشن محمد الیاس خان کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ 

 

ٹیم میں ایس ڈی پی او سرکل دیر مشرف خان، ایس ڈی پی او سرکل واڑی فخر عالم خان، ڈی ایس پی انوسٹی گیشن اختر علی اور ایس ایچ او تھانہ دیر سٹی جوہر علی سمیت دیگر افسران شامل تھے۔

 

پولیس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے جدید سائنسی طریقوں اور ٹیکنیکل ٹریسنگ کی مدد سے مسلسل کارروائیاں کرتے ہوئے 72 گھنٹوں کے اندر اندھے مقدمے کا سراغ لگا لیا۔

 

تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ بچے کو اغوا کرنے والا ملزم اس کا اپنا چچا زاد بھائی تھا، جس نے خاندانی رنجش اور لالچ کے باعث بچے کو اغوا کر کے قتل کر دیا۔

 

پولیس کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ اس کی نشاندہی پر بچے کی لاش بھی برآمد کر لی گئی ہے۔ ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے اور اسے جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔