امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کے حوالے سے نئی سفری ہدایات جاری کرتے ہوئے ملک کو بدستور درجہ تین کی فہرست میں برقرار رکھا ہے اور اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ پاکستان کا سفر کرنے سے قبل اچھی طرح غور کریں۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مسلح تصادم، دہشت گردی، جرائم اور اغوا کے خطرات موجود ہیں، اس لیے سفر سے پہلے مکمل سوچ بچار ضروری ہے۔
سفری ہدایات کے مطابق اگرچہ مجموعی طور پر پاکستان کو درجہ تین میں رکھا گیا ہے، تاہم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لیے درجہ چار مقرر کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ امریکی شہریوں کو ان علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: شمالی وزیرستان: میران شاہ میں چشمہ چیک پوسٹ پر خودکش دھماکا، 1 شخص جاں بحق، 15 زخمی
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق پاکستان میں شدت پسند اور دہشت گرد گروہ ماضی میں متعدد حملے کر چکے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسے حملوں کا خدشہ موجود ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں پیش آتے ہیں، تاہم ماضی میں بڑے شہروں جیسے کراچی اور اسلام آباد میں بھی حملے ہو چکے ہیں۔
سفری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد بغیر کسی پیشگی اطلاع کے حملہ کر سکتے ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ٹرانسپورٹ کے مراکز، ہوٹل اور سیاحتی مقامات، بازار اور خریداری مراکز، فوجی اور سکیورٹی اداروں کے مراکز، ہوائی اڈے اور ریلوے اسٹیشن، تعلیمی ادارے اور ہسپتال، عبادت گاہیں اور سرکاری عمارتیں شامل ہو سکتی ہیں۔
ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی سرکاری اہلکاروں کی نقل و حرکت پر مختلف پابندیاں عائد ہیں۔ امریکی سرکاری ملازمین کو پاکستان کے بعض علاقوں میں سفر کے دوران مسلح سکیورٹی اور بکتر بند گاڑیاں استعمال کرنا لازمی ہوتا ہے۔
مزید برآں امریکی سرکاری عملے کو عموماً بڑے اجتماعات، سیاسی جلسوں اور مذہبی تقریبات میں شرکت کی اجازت نہیں ہوتی۔
امریکی محکمہ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ ایسے افراد جو بیک وقت امریکی اور پاکستانی شہریت رکھتے ہیں، اگر پاکستان میں گرفتار یا حراست میں لیے جائیں تو امریکی سفارتخانہ انہیں مکمل قونصلر خدمات فراہم کرنے کے حوالے سے محدود اختیارات رکھتا ہے، کیونکہ پاکستانی قانون کے تحت انہیں صرف پاکستانی شہری تصور کیا جاتا ہے۔
سفری ہدایات کے مطابق بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک سمیت مختلف شدت پسند گروہ سرگرم ہیں جو ماضی میں مہلک حملے کر چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں قتل اور اغوا کی کوششوں کے واقعات بھی عام ہیں۔
امریکی حکومت کے مطابق خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں سرگرم دہشت گرد اور باغی گروہ باقاعدگی سے حملے کرتے رہتے ہیں۔ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد گروہ ماضی میں پولیو مہم کے عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں، جبکہ اغوا اور قتل کی کوششوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے 3 مارچ 2026 کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر لاہور اور کراچی میں قونصل خانوں میں تعینات غیر ضروری امریکی سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم دیا تھا، تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کی موجودہ حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
