بنوں کی تحصیل ڈومیل میں ایک لڑکی پر مبینہ تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند مسلح افراد نے لڑکی کو حراست میں لے کر ایک کمرے میں بند کرتے ہیں اور اس پر تشدد کرتے ہیں، جس کی ویڈیو بعد میں سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی۔

 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ لڑکی کا نام جمشیدہ ہے جو علاقے میں "چھوٹا "کے نام سے مشہور ہے اور شوق کی وجہ سے لڑکوں کے لباس میں باہر گھومتی پھرتی ہے۔

 

ویڈیو میں لڑکی پر تشدد کرنے کے ساتھ معافی منگوائی جا رہی ہے اور اس سے وعدہ لیا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ لڑکوں کے لباس میں باہر نہیں نکلے گی کیونکہ اسے مقامی روایات کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس عمل کو غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے: کوہاٹ: شکردرہ میں فائرنگ، غیر قانونی سونا نکالنے والے تین مزدور جاں بحق

 

ڈومیل پولیس کے ایس ایچ او عصمت اللہ خان نے بتایا کہ لڑکی پر تشدد کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اس واقعے میں ملوث مسلح افراد کی تلاش جاری ہے جبکہ پولیس متاثرہ لڑکی کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرے گی۔ واقعے کے بعد علاقے میں چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔

 

پولیس حکام کے مطابق جمشیدہ نامی لڑکی اس وقت محفوظ ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں۔

 

ڈومیل کے رہائشی اور سیاسی و سماجی رہنما سعود احسان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لڑکی اپنے شوق کی وجہ سے لڑکوں کے لباس میں گھومتی پھرتی ہے۔ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس بنیاد پر اس پر تشدد کرے۔ 

 

مسلح افراد کی جانب سے اس طرح کا اقدام بنیادی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہاں نوجوانوں اور بالخصوص خواتین کو ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

 

 حکومت کو چاہیے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات کرے۔ بعض اوقات نوجوانوں کو بھی گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا جاتا ہے جو انسانی حقوق کے خلاف ہے۔

 

سعود احسان کے مطابق ڈومیل میں ایسے گھرانے بھی موجود ہیں جن کے افراد کم ہوتے ہیں یا ان کی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں ہوتا۔ بعض خواتین مردانہ لباس پہن کر اپنے خاندان کی مالی کفالت کے لیے سرگرم ہوتی ہیں اور گھر کے معاملات سنبھالتی ہیں۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند مہینوں سے ڈومیل میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کم عمر نوجوانوں کو گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا جاتا ہے جبکہ کبھی خواتین اور کبھی سیاسی و سماجی افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پشتون معاشرے میں خواتین پر اس طرح کا تشدد نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ قانونی جرم بھی ہے۔

 

سیاسی و سماجی افراد نے ڈومیل کے واقعے کو ظلم اور بربریت قرار دیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں لڑکی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ وہ مجبوری کے باعث گھر سے نکلتی ہے کیونکہ اس کے والد بیمار ہیں۔ ویڈیو میں وہ بار بار منت کرتی ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے اور اس پر ظلم نہ کیا جائے۔

 

دوسری جانب سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے مختلف دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض افراد کا کہنا ہے کہ لڑکی گھر سے فرار ہو گئی تھی اور نوجوانوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومتی پھرتی تھی جس کے بعد اہل خانہ نے مسلح افراد کو اطلاع دی۔ تاہم اس حوالے سے لڑکی کے والدین کا کوئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔

 

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے جرگے بھی منعقد کیے گئے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ علاقے میں قانون کی عملداری یقینی بناتے ہوئے اس طرح کے واقعات کا سدباب کیا جائے۔