خیبر پختون خوا کابینہ نے حالیہ اجلاس میں صوبے کے مختلف اضلاع میں اہم ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور قانونی اصلاحات سے متعلق متعدد اقدامات کی توثیق کی گئی۔
کابینہ نے پانچ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں بریسٹ اسکریننگ سینٹرز قائم کرنے، اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کے لیے اراضی محکمہ صحت کو منتقل کرنے اور لکی مروت میں ویمن اینڈ چلڈرن ہسپتال منصوبے کی لاگت میں اضافے کی منظوری دی۔
پشاور کے کوہاٹ روڈ پر لیڈیز اینڈ چلڈرن پارک کے لیے اراضی فراہم کرنے اور ہنگو میں جوڈیشل کمپلیکس کی توسیع کے لیے سرکاری اراضی کی منتقلی کی بھی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی سیکیورٹی پر تنازع: حقیقت کیا ہے؟
انفراسٹرکچر کے شعبے میں پشاور تا ڈی آئی خان موٹر وے کے لیے اراضی کی خریداری کی لاگت کی منظوری دی گئی، جبکہ خیبر میں تیراہ ماڈل کے تحت 6505 متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امدادی پیکج کی بھی توثیق کی گئی۔ پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ کے لیے نجی شعبے کے نمائندے کی نامزدگی کی منظوری بھی دی گئی۔
قانون سازی کے حوالے سے خیبر پختون خوا ویگرنسی (کنٹرول اینڈ ری ہیبلیٹیشن) بل 2025 اور کام کی جگہ پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کے قانون 2010 میں ترامیم کی منظوری دی گئی، جبکہ گندم پروکیورمنٹ اینڈ اسٹریٹجک ریزروز ہائبرڈ پالیسی 2026 کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر صحت سہولت مراکز اور ہسپتالوں میں عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے 4 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد فنڈز، اقلیتی طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہمی کے لیے 19 کروڑ 60 لاکھ روپے گرانٹ اِن ایڈ اور دیگر منصوبوں کے لیے اربوں روپے کے فنڈز کی منظوری دی گئی۔ کابینہ کے ان فیصلوں کو صوبے میں ترقی اور عوامی سہولیات کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
