عمران ماہر، عنایت کلے بازار کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام تحصیل خار کے جنرل سیکرٹری، نے علاقے میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مبینہ غبن اور بدانتظامی کے خلاف آواز اٹھا دی۔
حال ہی میں وہ ایک ویلج کونسل میں سپورٹس سامان کی تقسیم کی تقریب میں شریک ہوئے جہاں انکشاف ہوا کہ پانچ لاکھ روپے کے سرکاری فنڈ کے مقابلے میں فراہم کردہ سامان کی مالیت پچاس ہزار روپے سے بھی کم تھی۔
عمران ماہر نے اس معاملے کو سوشل میڈیا پر اجاگر کرنے کے ساتھ متعلقہ حکام کو بھی باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔ ان کی جانب سے نشاندہی کے بعد کھلاڑیوں اور مختلف ویلج کونسلوں کے چیئرمینوں نے بھی ضلعی انتظامیہ کو تحریری درخواستیں جمع کرا دیں، جن میں کھیلوں کے فنڈز میں مبینہ کرپشن کی نشاندہی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: مانسہرہ: ڈی ایچ کیو اسپتال کے ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ سے لاکھوں روپے مالیت کی الٹرا ساؤنڈ مشین چوری
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ضلع کی 127 ویلج اور نیبرہڈ کونسلوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے مجموعی طور پر 6 کروڑ 35 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔ ہر کونسل کو لوکل گورنمنٹ اینڈ رورل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے ذریعے پانچ لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر شاہد علی خان نے 20 فروری 2026 کو جاری کردہ تحریری نوٹیفکیشن میں ان الزامات کی باقاعدہ تحقیقات کا حکم دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عوامی ملاقاتوں اور سوشل میڈیا پر وائرل شکایات میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض کونسلوں میں فنڈز حکومتی پالیسی کے مطابق خرچ نہیں کیے گئے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (فنانس اینڈ پلاننگ) کو انکوائری کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو مکمل تحقیقات کے بعد فنڈز کے ممکنہ غلط استعمال کی نشاندہی کریں گے اور ذمہ داران کے خلاف سخت اور بروقت کارروائی کو یقینی بنائیں گے۔
بلدیاتی نمائندوں، سیاسی و سماجی کارکنوں اور کھلاڑیوں نے اس انکوائری کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے متعدد افراد نے الزام لگایا کہ ضلع باجوڑ میں کھیلوں کے لیے جاری کردہ فنڈز میں بڑے پیمانے پر بدانتظامی اور کرپشن کی گئی۔
ویلج کونسل وی سی 47 غاخی ماموند سے تعلق رکھنے والے کرکٹ کھلاڑی عمر خان نے کہا کہ 127 کونسلوں کے لیے مختص 6 کروڑ 35 لاکھ روپے کے باوجود فراہم کردہ اسپورٹس کٹس کی مالیت ایک لاکھ روپے سے بھی کم تھی، جو سنگین بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔
کھلاڑیوں اور اسپورٹس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ بیشتر اسپورٹس کٹس غیر معیاری تھیں اور فنڈز کی تقسیم میں اقرباء پروری اور پارٹی وابستگی کو ترجیح دی گئی، جس کے باعث مستحق افراد محروم رہے۔
انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
