پشاور کے پھندو روڈ پر قائم سبزی منڈی میں اس وقت آلو کی قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ زمیندار نجیب خان کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب آلو کی قیمت اس قدر گر گئی ہے۔

 

 وہ مانتے ہیں کہ اس کا سب سے بڑا فائدہ عوام کو ہو رہا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ زمینداروں کے حالات پر بھی توجہ دینی چاہیے کیونکہ وہ ان سستے داموں کی وجہ سے سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

 

نجیب خان کے مطابق موجودہ قیمتوں کے باعث زمیندار طبقے کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات ایسے ہیں کہ کاشتکار اپنی لاگت بھی پوری نہیں کر پا رہے۔ بیشتر زمینداروں نے امید لگائی ہوئی تھی کہ رمضان میں قیمتیں بہتر ہوں گی، مگر رمضان میں بھی نرخ مزید کم ہو گئے۔

 

 مارکیٹ میں آلو کی بہت زیادہ مقدار موجود ہے، لیکن قیمت کم ہونے کے باوجود خریداری اس رفتار سے نہیں ہو رہی جیسی توقع کی جا رہی تھی۔

 

آلو کی کاشت سے وابستہ زمیندار مصباح کہتے ہیں کہ جب سے طورخم سرحد بند ہوئی ہے، سبزیوں کی قیمتیں نمایاں طور پر کم ہوئی ہیں۔ ان کے مطابق سبزیوں کی ایک بڑی مقدار کابل بھیجی جاتی تھی۔ 

 

انہیں یاد ہے کہ گزشتہ رمضان میں آلو فی کلو 140 سے 150 روپے میں فروخت ہو رہا تھا اور زمینداروں کو اچھا منافع مل رہا تھا، لیکن اس بار بہترین آلو بھی صرف 30 روپے فی کلو میں فروخت ہو رہا ہے۔

 

مصباح کا کہنا ہے کہ وہ خوش ہیں کہ عوام کو سستی سبزی مل رہی ہے، لیکن بات صرف ایک پہلو تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ زمینداروں نے محنت اور خرچ کے بعد فصل تیار کی، مگر انہیں اس کا مناسب معاوضہ نہیں مل سکا۔

 

ایک اور زمیندار انعام جان نے بتایا کہ اگر آلو کی قیمتیں اسی طرح رہیں تو آئندہ دنوں میں کاشتکار آلو کی کاشت کم کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر شخص اپنے فائدے اور نقصان کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، اور اگر نقصان مسلسل ہوتا رہا تو لوگ اس فصل سے دور ہو جائیں گے۔

 

سبزی منڈی میں خریداری کے لیے آنے والے گاہک مدثر حسین نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آلو ایک ایسی سبزی ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ رمضان میں بہترین آلو 30 روپے فی کلو ملے گا۔ ان کے خیال میں اس کی ایک بڑی وجہ طورخم بارڈر کی بندش ہے، جس سے مقامی مارکیٹ میں سپلائی بڑھ گئی ہے۔

 

ایک اور شہری احمد جان نے کہا کہ اگر آلو کو سبزیوں کا بادشاہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق آلو سے درجنوں پکوان بنتے ہیں اور یہ بے شمار کھانوں کا اہم حصہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بار لوگ کھل کر آلو خرید رہے ہیں اور زیادہ استعمال کر رہے ہیں، جس کی بڑی وجہ اس کی کم قیمت ہے۔

 

یہ صورتحال ایک طرف عوام کے لیے سہولت بن گئی ہے تو دوسری طرف زمینداروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بھی کھڑا کر رہی ہے۔ اگر قیمتوں میں توازن پیدا نہ ہوا تو آئندہ فصلوں کی کاشت پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔