خولہ زرافشاں 

 

گلی محلّوں میں سیوریج کے پانی کے لیے بنائی جانے والی نالیاں ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان نالیوں پر متعلقہ ادارے حفاظتی گرِل نصب کرواتے ہیں تاکہ راہ چلتے ہوئے لوگ، خصوصاً بچے اور ضعیف افراد، حادثات سے محفوظ رہ سکیں۔ 

 

ابتدا میں یہ گرِل اپنی جگہ درست حالت میں موجود ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ پانی کے بہاؤ، موسمی اثرات اور انسانی لاپروائی کے باعث یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات نشئی افراد یا مفاد پرست لوگ انہیں اکھاڑ کر فروخت کر دیتے ہیں۔

 

چند ہی عرصے بعد یہی نالیاں اور گٹر گندگی سے بھر جاتے ہیں اور گزرنے والوں کے لیے شدید مشکلات اور خطرات کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ نالیاں خصوصاً بچوں اور بزرگوں کے لیے موت کے کنوئیں بن جاتی ہیں اور آئے دن حادثات کی وجہ بنتی ہیں۔

 

کچھ دن پہلے پشاور میں کھلے مین ہولز کے حوالے سے ایک رپورٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پشاور کی 42 یونین کونسلز میں 6,260 مین ہولز کے ڈھکن غائب یا ٹوٹے ہوئے ہیں، جو واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز پشاور (ڈبلیو ایس ایس پی) کی دستاویز میں سامنے آیا ہے۔ 

 

یہ بھی پڑھیے: اصول صرف دوسروں کے لیے نہیں، خود کے لیے بھی ہوں

 

ڈبلیو ایس ایس پی نے لوکل گورنمنٹ سے ڈھکن لگانے کے لیے 5 کروڑ 79 لاکھ روپے کی فنڈنگ کی درخواست کی ہے، جن میں پندرہ ٹن کے 1,707، چھ ٹن کے 3,169 اور دو ٹن کے 1,384 مین ہولز شامل ہیں۔ اگر پشاور شہر کا یہ حال ہے تو ذرا سوچئے کہ خیبرپختونخوا کے باقی شہروں کا کیا حال ہوگا۔

 

اسی طرح پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً کراچی، میں بھی آئے دن گٹروں کے ڈھکن غائب ہونے کے واقعات سامنے آتے ہیں، جن کے باعث بچے اور بڑے خطرناک حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔

 

حکومت ہماری حفاظت کے لیے ان نالیوں اور گٹروں پر ڈھکن اور گرِل نصب کرتی ہے، مگر ہماری غفلت اور بے حسی کے باعث ہم نہ تو ان کی حفاظت کر پاتے ہیں اور نہ ہی ان لوگوں کو روکتے ہیں جو ایسی اہم اور ضروری چیزیں چوری کر کے بیچ دیتے ہیں۔

 

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے معاشرے میں نشئی افراد کی تعداد بڑھ گئی ہے یا پھر مہنگائی کی شدت نے لوگوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ یہ گرِل اکھاڑ کر کباڑیوں کو فروخت کریں۔

 

اگرچہ اس معاشرے میں ایسے ذمہ دار اور باکردار لوگ بھی موجود ہیں جو ان گرِلوں اور ڈھکنوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان کی تعداد بہت کم ہے۔

 

اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ یہ گرِل چوری نہ ہوں تو نالیاں بنانے کے بعد گرِل نصب کر کے ان کے گرد کنکریٹ فرش بندی کی جانی چاہیے، تاکہ انہیں نکالنا آسان نہ ہو۔ مزید حفاظت کے لیے ان گرِلوں پر پینٹ کیا جائے اور انہیں موٹے، مضبوط اور خالص لوہے کے اینگل آئرن اور سریے سے تیار کیا جائے، تاکہ یہ مٹی، پانی اور موسمی اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔

 

حکومت ہمیں جو سہولتیں فراہم کر رہی ہے، ان کا درست استعمال، دیکھ بھال اور حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے اور اس کی حفاظت ہمارا اولین فرض ہے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، صاف ستھرا اور بہتر پاکستان دے سکیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔