پشاور کا تاریخی یکہ توت بازار جو کبھی اپنی رنگ برنگی پتنگوں اور گڈوں کی وجہ سے ہر وقت آباد رہتا تھا، بسنت کا سیزن گزرتے ہی جیسے اپنی رونقیں کھو بیٹھا ہے۔
حیران کن طور پر اس کی وجہ گاہکوں کی کمی نہیں بلکہ وہ ہنرمند کاریگر ہیں جو سیزن کے عروج پر پشاور کو چھوڑ کر پنجاب چلے گئے۔ بسنت کی آمد کے ساتھ ہی یہاں کام کرنے والے تقریباً 95 فیصد کاریگروں نے پنجاب کا رخ کیا، جس کے نتیجے میں پشاور کے کارخانے خالی پڑ گئے اور مقامی دکانداروں کو کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
ہنرمندوں کی ہجرت اور ٹوٹتی سپلائی چین
خیبرپختونخوا کائٹ ایسوسی ایشن کے صدر انور سعید اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ محض کاغذ اور بانس کا کھیل نہیں بلکہ ایک وسیع صنعت ہے جو اس وقت کاریگروں کے بحران کی زد میں ہے۔ انور سعید بتاتے ہیں کہ جوں ہی پنجاب میں بسنت کا چرچا ہوا، پشاور کے کارخانوں میں کام کرنے والے 99 فیصد کاریگر، جن کا تعلق پنجاب سے تھا، واپس اپنے علاقوں کو لوٹ گئے۔
وہ کہتے ہیں کہ“پتنگ سازی بنیادی طور پر پنجاب کا فن ہے اور پشاور میں مقامی کاریگروں کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ ہم نے ان ہنرمندوں کو روکنے کے لیے ان کا معاوضہ تین گنا تک بڑھایا، لیکن پنجاب میں بڑھتی ہوئی طلب اور وہاں کے پرکشش معاوضوں کے سامنے ہماری ہر کوشش ناکام رہی۔”

اس بڑے پیمانے پر ہونے والی ہجرت کا نتیجہ یہ نکلا کہ طلب موجود ہونے کے باوجود مارکیٹ میں گڈوں کا اسٹاک ختم ہو گیا۔ ایک دکاندار کو 27 ہزار سے زائد آن لائن آرڈرز موصول ہوئے، مگر سپلائی کے لیے ایک پتنگ بھی دستیاب نہ تھی۔
ایک ہفتے کی کمائی اور اربوں روپے کا خواب
یکہ توت بازار میں گڈوں کی دو درجن سے زائد بڑی دکانیں اور کئی کارخانے موجود ہیں، جہاں ہزاروں گھرانوں کا چولہا اسی کاروبار سے جلتا ہے۔ انور سعید کے مطابق اگر کاریگر عین موقع پر پشاور نہ چھوڑتے تو اس ایک سیزن میں یہاں سے پانچ ارب روپے سے زائد کا کاروبار ممکن تھا۔
یہ بھی پڑھیے: رنگین آسمان پتنگ بازی: روایت یا حفاظتی خطرہ
وہ اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں: “آپ طلب کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ شدید قلت کے باوجود میں نے محض ایک ہفتے میں ایک کروڑ روپے سے زائد کے گڈے فروخت کیے، لیکن افسوس کہ اسٹاک نہ ہونے کی وجہ سے ہم خریداروں کی مکمل طلب پوری نہ کر سکے۔”
بند کارخانے اور مقامی مہارت کا فقدان
نو سال سے اس مارکیٹ میں دکان چلانے والے فیض یاب جان بھی اسی کرب کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے کارخانے میں پنجاب کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے 100 کاریگر دن رات کام کرتے تھے، مگر اب یہ تعداد کم ہو کر صرف 20 رہ گئی ہے۔ یہی صورتحال اورنگزیب بیان کرتے ہیں، جو کارخانوں کی بندش اور سپلائی چین کے تعطل کو اس صنعت کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیتے ہیں۔
دکانداروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایک مہنگا شوق ہے، مگر اب خیبرپختونخوا کے لوگ بھی اس سے محظوظ ہونا سیکھ چکے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ مقامی کاریگر نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہمیشہ بیرونی ہنرمندوں کے محتاج رہتے ہیں۔ انور سعید بھارت کی مثال دیتے ہیں جہاں اس صنعت سے سالانہ چار ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا جا رہا ہے۔
حکومت سے مطالبہ اور محفوظ پالیسی کی ضرورت
یکہ توت کے تاجروں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اس صنعت کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ ان کا کہنا ہے کہ پشاور کے نوجوانوں کو پتنگ سازی کا فن سکھایا جائے تاکہ کاریگروں کی کمی کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
حکومت ایسی پالیسی وضع کرے جس کے تحت کیمیکل ڈور کے بغیر محفوظ انداز میں یہ کھیل اور کاروبار جاری رہ سکے۔ اس شعبے کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے کر لاکھوں افراد کے روزگار کو تحفظ فراہم کیا جائے۔
بسنت تو گزر گئی، مگر یکہ توت کے سنسان بازار اور بند کارخانے آج بھی اربابِ اختیار کی توجہ کے منتظر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اگلا سال بھی اسی بے بسی کی نذر ہوگا، یا پشاور کی اپنی پتنگیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کرتی نظر آئیں گی؟
