دو دن پہلے کی بات ہے، میں شام کے وقت گھر واپس آ رہی تھی۔ موسم نہایت خوشگوار تھا اور ہر طرف بہار کی رونق چھائی ہوئی تھی۔ چھتوں پر لوگ کھڑے تھے، آسمان میں رنگ برنگی پتنگیں لہرا رہی تھیں۔
اس دوران اچانک میری نظر ایک بچے پر پڑی جو سڑک پر تیزی سے دوڑ رہا تھا۔ اس کی پوری توجہ آسمان پر تھی، جہاں اس کی پتنگ لہرا رہی تھی، اور ہاتھ میں مضبوطی سے ڈور تھامی ہوئی تھی۔ وہ اس قدر کھیل میں مگن تھا کہ اسے یہ احساس ہی نہیں رہا کہ وہ ایک مصروف سڑک پر بھاگ رہا ہے۔
اگلے ہی لمحے ایک موٹر سائیکل اس سے ٹکرا گئی اور بچہ شدید زخمی ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل دہل گیا، جیسے لمحہ بھر میں خوشی کا منظر خوف اور درد میں بدل گیا ہو۔
آج کل بہار کا موسم ہے اور اسی کے ساتھ پتنگ بازی کا جنون ہر طرف نظر آ رہا ہے۔ کہیں بچے چھتوں پر کھڑے ہیں، کہیں گلیوں میں دوڑ رہے ہیں اور کہیں پتنگ کے پیچھے سڑکوں تک جا نکلتے ہیں۔
پتنگ بازی ہمارے معاشرے کی ایک پرانی اور خوبصورت روایت ہے، جو خوشی، جوش اور رنگ بکھیرتی ہے۔ یہ کھیل بچوں میں توانائی اور مسرت پیدا کرتا ہے، مگر جب احتیاط کو نظر انداز کیا جائے تو یہی کھیل خطرناک بلکہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
چھتوں پر پتنگ اڑاتے ہوئے بچے اکثر نیچے دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ ان کی ساری توجہ پتنگ پر مرکوز ہوتی ہے اور ذرا سی لغزش یا چھت کے کنارے تک جانا ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں بچے شدید زخمی ہوئے یا اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
والدین اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ گھر کی چھت محفوظ جگہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر چھت اتنی محفوظ نہیں ہوتی جتنی دکھائی دیتی ہے۔
اسی طرح سڑکوں پر پتنگ کے پیچھے دوڑنا بھی انتہائی خطرناک عمل ہے۔ بچے اس قدر کھیل میں مگن ہو جاتے ہیں کہ سامنے آنے والی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا رکشوں کو دیکھنا بھول جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بہار کے موسم میں ایسے حادثات پیش آتے ہیں جو کئی خاندانوں کی خوشیاں چھین لیتے ہیں۔ دو دن پہلے جو منظر میں نے دیکھا، وہ اسی تلخ حقیقت کا عملی ثبوت تھا۔
مزید یہ کہ بعض پتنگیں کیمیکل لگی یا کٹی ہوئی ڈور سے باندھی جاتی ہیں، جو نہ صرف بچوں بلکہ بڑوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔ کئی بار موٹر سائیکل سوار یا پیدل چلنے والے ان ڈوروں سے زخمی ہو جاتے ہیں، اور افسوسناک طور پر ایسے واقعات بھی ہو چکے ہیں جن میں لوگوں کے گلے کٹ گئے۔
اس کے علاوہ، بچے پتنگ کو بچانے کے لیے بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے قریب بھی چلے جاتے ہیں، جو سب سے خطرناک صورتحال ہوتی ہے۔ بجلی کا کرنٹ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور ہر سال اس طرح کے حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
ان تمام خطرات کے باوجود پتنگ بازی کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن اس کھیل کو محفوظ ضرور بنایا جا سکتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بچے اور والدین حفاظتی اقدامات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھیں، انہیں سڑکوں پر دوڑنے یا خطرناک جگہوں پر جانے سے روکیں، اور یہ شعور دیں کہ کھیل کی خوشی سے بڑھ کر ان کی جان قیمتی ہے۔ اسکولوں اور کمیونٹی پروگراموں کے ذریعے بچوں کو پتنگ بازی کے دوران احتیاطی تدابیر سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ خطرناک ڈور کے استعمال پر سخت پابندی لگائی جائے اور اس پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام کو محفوظ جگہوں پر پتنگ بازی کی ترغیب دی جائے۔ اگر یہ اقدامات کیے جائیں تو پتنگ بازی واقعی خوشیوں کا ذریعہ بن سکتی ہے، نہ کہ حادثات اور غم کا سبب۔
پتنگ بازی ایک خوبصورت روایت ہے جو بہار کی خوشیوں کو دوبالا کر دیتی ہے، مگر یہ خوشیاں تب ہی برقرار رہ سکتی ہیں جب ہم اسے احتیاط، ذمہ داری اور شعور کے ساتھ منائیں۔ اگر لاپرواہی جاری رہی تو خوشی کا یہ کھیل لمحوں میں غم میں بدل سکتا ہے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
