ایاز مندوخیل

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی سیکیورٹی کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان و افغانستان امور کے ماہر اور سینئر صحافی طاہر خان کے مطابق موجودہ صورتحال دو سمتوں میں جا سکتی ہے یا تو دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کی حکمت عملی اختیار کریں گے، یا کسی نئے واقعے کے بعد جوابی کارروائیوں کا سلسلہ مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

 

طاہر خان کا کہنا ہے کہ بنیادی تنازع پالیسی کے اختلاف میں پوشیدہ ہے۔ افغانستان کی عبوری حکومت پاکستان پر زور دیتی ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کرے، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ وہ ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا اور مذاکرات کا راستہ اختیار نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق اسی بنیادی اختلاف کے باعث کسی بڑی پالیسی تبدیلی کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔

 

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی بیشتر سرحد پار کارروائیوں پر افغان طالبان کی طرف سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم اکتوبر 2025 کی کارروائیوں کے بعد جواب دیا گیا تھا جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ 

 

ان کے مطابق افغان طالبان کو داخلی دباؤ کا بھی سامنا ہے، اس لیے ردعمل یا تحمل دونوں امکانات موجود ہے۔

 

بنوں حملہ اور تازہ کشیدگی

 

21 فروری 2026 کو خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو ایک خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق یہ کارروائی ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران کی گئی۔

 

یہ بھی پڑھیے:  بنوں: خودکش حملے کی کوشش ناکام، لیفٹیننٹ کرنل گل فراز اور ایک سپاہی شہید، 5 شدت پسند ہلاک

 

 بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ایک خودکش حملہ آور کو بروقت روک کر ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا، تاہم شدید فائرنگ کے تبادلے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز (رہائشی ضلع مانسہرہ) اور سپاہی کرامت شاہ (رہائشی ضلع پشاور) شہید ہو گئے، جبکہ پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا۔

 

آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیموں سے تھا اور ان کی سرگرمیوں میں افغان سرزمین کے استعمال کا الزام بھی عائد کیا گیا۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں اور افغان عبوری حکومت ان گروہوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ 

 

حکومتِ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور “عزمِ استحکام” کے تحت انسداد دہشت گردی مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔

 

سرحد پار کارروائیاں اور ردعمل

 

اسی تناظر میں پاکستان نے اسی رات افغانستان کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ وفاقی وزارت اطلاعات کے بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں کو نقصان پہنچایا گیا اور بعض کمانڈرز کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

گزشتہ برس اکتوبر 2025 میں بھی پاکستان کی جانب سے سرحد پار کارروائیاں کی گئی تھیں، جن کے بعد افغان طالبان کی جانب سے ردعمل سامنے آیا تھا۔ اس دوران سرحدی جھڑپوں میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی موصول ہوئی تھیں، جس سے وقتی طور پر صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔

 

سفارتی دباؤ اور ثالثی کی کوششیں

 

ثالثی کے حوالے سے طاہر خان کا کہنا ہے کہ ماضی میں ترکی اور قطر نے سہولت کاری کا کردار ادا کیا تھا، تاہم اس وقت سعودی عرب زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ ریاض میں دونوں ممالک کے درمیان ملاقاتوں کا انعقاد بھی کیا گیا تھا اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تجاویز زیر غور آئیں۔

 

 تاہم ان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کی فضا ثالثی کی کوششوں کو پیچیدہ بنا رہی ہے اور حالیہ فضائی کارروائیوں کے بعد ماحول مزید سخت ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سعودی عرب کے لیے بھی ایک امتحان ہے کہ وہ خطے میں اپنا سفارتی کردار مؤثر انداز میں دوبارہ ادا کر پاتا ہے یا نہیں۔

 

کابل میں پاکستانی سفیر کی طلبی کے حوالے سے طاہر خان کا کہنا ہے کہ یہ سفارتی روایت کا حصہ ہے۔ جب کوئی ملک دوسرے ملک کے اقدام پر احتجاج کرنا چاہتا ہے تو سفیر کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ فضائی کارروائیوں کے تناظر میں اس اقدام کو دیکھا جا رہا ہے۔

 

آگے کا راستہ

 

طاہر خان کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی رابطوں اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں، تاہم زمینی حقائق اس عمل کو آسان نہیں بناتے۔ موجودہ حالات میں ہر نیا واقعہ صورتحال کو کسی بھی سمت لے جا سکتا ہے—یا تو تحمل اور بات چیت کی طرف، یا مزید سخت ردعمل اور کشیدگی کی جانب۔