ہمارے معاشرے میں نشہ ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے جو خاموشی سے گھروں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اکثر جب کسی گھر کا کوئی فرد نشہ کرنا شروع کرتا ہے تو ابتدا میں سب پریشان ہوتے ہیں، سمجھاتے ہیں، ناراض بھی ہوتے ہیں، مگر وقت کے ساتھ ساتھ تھک جاتے ہیں۔
آہستہ آہستہ وہ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ یہ شخص اب کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب بے توجہی شروع ہو جاتی ہے۔ گھر والے اس کی پرواہ کرنا چھوڑ دیتے ہیں، اس سے بات چیت کم ہو جاتی ہے، اور اگر وہ گھر سے باہر زیادہ وقت گزارے تو کسی کو فکر نہیں ہوتی۔
ہر فرد اس سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگتا ہے۔ اگر وہ بیمار ہو جائے تو بھی اکثر اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس رویّے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ شخص خود کو بالکل اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے۔ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اب کوئی بھی میرا اپنا نہیں ہے۔
نشے کا عادی فرد پہلے ہی ذہنی، جسمانی اور جذباتی طور پر کمزور ہوتا ہے۔ جب اسے اپنے ہی گھر میں قبولیت اور محبت نہیں ملتی تو وہ اندر سے ٹوٹ جاتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی کوئی قدر نہیں، کوئی اس کا نہیں۔ یہی احساس اسے مزید غلط راستوں کی طرف لے جاتا ہے۔
بعض اوقات وہ غلط لوگوں کی صحبت اختیار کر لیتا ہے، چوری جیسے کاموں میں ملوث ہو جاتا ہے، یا ایسے جرائم کا حصہ بن جاتا ہے جن کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا۔ یہ سب اس لیے نہیں ہوتا کہ وہ فطری طور پر برا انسان ہے، بلکہ اس لیے کہ اس کے پاس کوئی سہارا نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیے: پولیس کا فرض حفاظت کرنا یا سماجی پابندیاں لگانا؟
ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نشہ صرف ایک بری عادت نہیں بلکہ ایک بیماری ہے۔ جس طرح ہم کسی اور بیماری میں مبتلا فرد کو تنہا نہیں چھوڑتے، اسی طرح نشے کے عادی شخص کو بھی علاج، توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں نشے کو صرف بدنامی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ گھر والے یہ سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے، رشتے دار کیا سوچیں گے، اور اسی خوف کی وجہ سے وہ اس مسئلے کو چھپانے یا نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ چھپانے سے ختم نہیں ہوتا، بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
اس بلاگ کے لیے میں نے ایک لڑکی سے بات کی، جس کی زندگی کی کہانی اس بات کی بہترین مثال ہے کہ اگر ایک فرد بھی سچے دل سے کوشش کرے تو حالات بدل سکتے ہیں۔ اس لڑکی نے بتایا کہ وہ چھ بہنیں تھیں اور ان کا ایک ہی بھائی تھا۔ وہ بھائی سب کا لاڈلا تھا، مگر نوجوانی میں غلط صحبت کی وجہ سے نشے کا عادی ہو گیا۔
شروع میں گھر والوں نے بہت سمجھانے کی کوشش کی، کبھی پیار سے اور کبھی غصے سے، مگر جب وہ باز نہ آیا تو آہستہ آہستہ سب نے اس سے امید چھوڑ دی۔
گھر میں اس سے بات کم ہونے لگی۔ اگر وہ کئی دن گھر نہ آئے تو کوئی زیادہ فکر نہیں کرتا تھا۔ اگر وہ بیمار ہو جاتا تو بس یہ کہہ دیا جاتا کہ یہ سب اس کے اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔
والدین دل ہی دل میں کڑھتے رہتے اور بہنیں بھی اس سے فاصلہ رکھنے لگیں۔ یوں وہ بھائی اپنے ہی گھر میں اکیلا ہو گیا۔ اس اکیلے پن نے اسے مزید نشے کی طرف دھکیل دیا اور اس کی حالت دن بدن خراب ہوتی چلی گئی۔
ان چھ بہنوں میں سے ایک بہن، جو شادی شدہ تھی، اپنے بھائی کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کا بھائی برا نہیں ہے، بس غلط راستے پر چل پڑا ہے۔ شادی کے بعد بھی وہ اپنے بھائی سے رابطے میں رہی۔ جب بھی موقع ملتا، وہ اس سے ملنے جاتی، اس کی بات سنتی اور اسے احساس دلاتی کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔
اس بہن نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ہر بار صبر سے اس سے بات کرتی اور اسے پیار سے سمجھاتی کہ علاج اس کی زندگی بدل سکتا ہے۔ آخرکار مسلسل محبت اور سمجھانے کے بعد بھائی علاج کے لیے راضی ہو گیا۔
اسے ایک اچھے علاج کے مرکز میں داخل کروایا گیا۔ علاج کا سفر بہت مشکل تھا، مگر اس کی بہن اسے حوصلہ دیتی رہی اور یہ احساس دلاتی رہی کہ اس کی زندگی قیمتی ہے۔ مسلسل علاج کے بعد آج وہ بھائی بالکل ٹھیک ہے۔
وہ نشہ نہیں کرتا، اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کر چکا ہے اور اپنے گھر والوں کی عزت اور اعتماد دوبارہ حاصل کر چکا ہے۔ یہ سب اس لیے ممکن ہوا کیونکہ ایک بہن نے بے توجہی کے بجائے پرواہ کا راستہ چنا۔
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ نشے کے عادی فرد کو چھوڑ دینا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اگر ہم اسے اکیلا چھوڑ دیں گے تو وہ مزید بگڑ سکتا ہے، لیکن اگر ہم اس کا ہاتھ تھام لیں تو وہ سنبھل سکتا ہے۔ محبت، توجہ اور علاج وہ طاقت ہیں جو ایک بگڑی ہوئی زندگی کو دوبارہ سنوار سکتی ہیں۔
آخر میں ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہر انسان غلطی کر سکتا ہے، مگر ہر انسان کو سنبھلنے کا حق بھی حاصل ہے۔ اگر ہمارے گھر میں کوئی نشے کا عادی ہے تو ہمیں اسے نفرت نہیں بلکہ ہمدردی دینی چاہیے۔ شاید ہماری ایک کوشش، ایک دعا اور ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کسی کی پوری زندگی بدل دے۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
