اپڈیٹڈ
کرک کے تھانہ خرم کی حدود، بہادر خیل کے علاقے میں فیڈرل کانسٹبلری (ایف سی) کے قلعے پر کواڈکاپٹر حملے کے بعد زخمی اہلکاروں کو ہسپتال منتقل کرنے والی ریسکیو 1122 ایمبولینس پر دہشت گردوں نے فائرنگ کی۔
اس حملے میں ایمبولینس میں موجود تین ایف سی اہلکار شہید ہو گئے جبکہ پانچ افراد زخمی ہوئے، جن میں ریسکیو کے دو اہلکار اور ایف سی کے چار زخمی شامل ہیں۔ زخمی اہلکاروں میں سے چار ایف سی اہلکار خلیفہ گل نواز ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق ایمبولینس میں زخمی ایف سی اہلکار کے ساتھ دو ایف سی اہلکار بطور اٹینڈنٹ بھی موجود تھے۔ حملے کے دوران دہشت گردوں نے ایمبولینس کو آگ بھی لگا دی۔
پولیس کے مطابق دہشت گردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، اور علاقے میں سرچ آپریشن کے ذریعے حملے میں ملوث افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔
کرک کے تھانہ خرم کی حدود، بہادر خیل کے علاقے درگہ شہیدان میں قائم فیڈرل کانسٹبلری (ایف سی) کے قلعے پر کواڈکاپٹر کے ذریعے حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار زخمی ہو گئے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سعود خان کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں ناکہ بندی بھی کر دی ہے جبکہ مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیے: بنوں: خودکش حملے کی کوشش ناکام، لیفٹیننٹ کرنل گل فراز اور ایک سپاہی شہید، 5 شدت پسند ہلاک
پولیس کے مطابق زخمی اہلکاروں میں حوالدار صابر، سپاہی آمین، سپاہی زوہیب، سپاہی مراد اور سپاہی یوسف شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
