پشاور ہائی کورٹ میں افغان گلوکاروں اور موسیقاروں کا کیس سنا گیا۔ افغان فنکار جسٹس صاحبزادہ اسداللہ اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔

 

سماعت کے دوران افغان گلوکار حشمت اللہ امید، الطاف حیرت، خاترہ، لیلیٰ نہال اور دنیا غزل نے عدالت کو اپنی مشکلات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں موسیقی پر پابندی ہے اور انہیں اپنی جان و مال کو سنگین خطرات لاحق ہیں، اس لیے وہ افغانستان واپس نہیں جا سکتے۔

 

یہ بھی پڑھیے:  خیبر پختونخوا: جامعات میں طالبات کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ

 

 ان کا کہنا تھا کہ بطور فنکار ان کے مسائل عام افغان شہریوں سے مختلف نوعیت کے ہیں اور انہیں خصوصی خطرات کا سامنا ہے۔

 

ججز نے سوالات کیے اور کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر غور ضروری ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے 18 فروری کی تاریخ مقرر کر دی۔

 

واضح رہے کہ افغان موسیقاروں کی جانب سے دائر درخواستوں کی تعداد تقریباً 150 تک بتائی جا رہی ہے، اور آئندہ سماعت میں مزید دلائل پیش کیے جائیں گے۔

کیس کی نمائندگی وکیل بابر یوسفزئی نے کی۔