ایاز مندوخیل 

 

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں تقریباً 50 فیصد بلوچ اور 34 فیصد پشتون آبادی آباد ہے۔

 

ان کے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں آبادی کے حوالے سے غلط اعداد و شمار فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں پشتون آبادی تقریباً 50 فیصد ہے۔بلوچستان میں آبادی کے تناسب سے متعلق یہ معاملہ ماضی میں بھی بحث اور تنازع کا باعث بنتا رہا ہے۔

 

 محمود خان اچکزئی نے کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے تاریخی پس منظر پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے مختلف دستاویزی حوالہ جات بیان کیے۔ انہوں نے گندمک معاہدے کے تناظر میں کوئٹہ کی تاریخ بیان کرتے ہوئے اسے کاسی، بازی اور یاسین زئی کاکڑ قبائل کی ملکیت قرار دیا اور کہا کہ یہاں کسی بلوچ سردار یا وڈیرے کی پدری زمین موجود نہیں۔

 

یہ بھی پڑھیے:  کالاش برادری کے لیے قانونی شناخت: خیبر پختونخوا کابینہ کا اہم اقدام

 

انہوں نے انگریز گزئیٹر کے حوالے سے کہا کہ “کوئٹہ مکمل طور پر افغان شہر ہے، بلوچ یہاں صرف نامی حیثیت رکھتے ہیں، اگرچہ آبادی کا تقریباً 9 فیصد براہوی ہے، تاہم لہری اور شاہوانی قبائل کاشتکار ہیں۔”

 

اس بیان کے بعد بلوچ حلقوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ اسی تناظر میں ہم نے تاریخی ریکارڈ کا جائزہ لینے کی کوشش کی تاکہ اس بحث کو تاریخی حوالوں کی روشنی میں سمجھا جا سکے۔

 

تاریخ میں افغان اور بلوچ تعلقات مختلف نشیب و فراز سے گزرے ہیں۔ افغان سلطنت اور بلوچ قیادت کے درمیان بڑے اور چھوٹے بھائی جیسا تعلق موجود رہا، تاہم سولہویں صدی میں مغل اور ایرانی دباؤ کے باعث یہ تعلق متاثر ہوا۔

 

 میر عبداللہ خان بروہی نے افغان سلطنت کی منصب داری سے انکار کیا، مگر 1733 میں شاہ حسین ہوتک نے قلات کے خوانین کو دوبارہ افغانستان کے منصب دار کے طور پر تسلیم کیا۔ بعد ازاں نادر شاہ افشار نے ہوتک حکمرانوں کو شکست دی۔

 

1747 میں احمد شاہ ابدالی کی سلطنت قائم ہونے پر میر نصیر خان نوری کو رہا کرکے قلات کے منصب پر بٹھایا گیا، اور یہ تعلق مختلف شکلوں میں 1854 تک برقرار رہا۔

 

برصغیر اور افغانستان میں انگریز مداخلت نے خطے کی سیاسی ساخت کو بدل دیا۔ 1841 کے معاہدے میں براہوی–انگریز تعلقات کا آغاز ہوا، جس میں میر نصیر خان نے خود کو شاہ کابل کا منصب دار تسلیم کیا۔ تاہم 14 مئی 1854 کے معاہدے میں اس حیثیت کو ختم کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں قلات اگست 1947 تک برطانوی اثر میں رہا۔

 

1879 کے انگریز–افغان معاہدہ گندمک کے بعد موجودہ بلوچستان کے پشتون علاقوں، بشمول کوئٹہ، کو بتدریج افغانستان سے الگ کیا گیا، اور 1887 میں اسے برٹش بلوچستان کا نام دیا گیا۔ اس کے برعکس جنوب میں بلوچ اقوام کے علاقے قلات، لسبیلہ، مکران اور خاران پر مشتمل آزاد ریاستیں تھیں، جنہیں 1952 میں بلوچستان اسٹیٹ یونین کی شکل میں یکجا کیا گیا۔

 

برٹش بلوچستان کو چیف کمشنر صوبہ بنایا گیا، جس کا انتظام 52 رکنی شاہی جرگہ کے ذریعے چلایا جاتا تھا، جن میں صرف چند بلوچ نمائندے شامل تھے۔ اکتوبر 1955 میں ون یونٹ کے قیام کے تحت پشتون اور بلوچ علاقوں کو انتظامی طور پر یکجا کیا گیا۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد 30 جون 1970 کو موجودہ بلوچستان صوبہ وجود میں آیا، تاہم بعض پشتون حلقے اس نام کو اپنی قومی شناخت کے تناظر میں متنازع سمجھتے ہیں۔

 

امپیریل گزئیٹر آف بلوچستان کے سیکشن 3 کے مطابق کوئٹہ جغرافیائی اور نسلی طور پر پشتون علاقوں میں واقع تھا، اگرچہ انتظامی طور پر اسے قلات کے ساتھ منسلک رکھا گیا۔ سر اولف کیرو اپنی کتاب "پٹھان" میں درہ بولان کو پشتون اور بلوچ علاقوں کے درمیان حد قرار دیتے ہیں، جس کے شمال میں پشتون جبکہ جنوب میں بلوچ آباد تھے۔

 

کوئٹہ تاریخی طور پر "شال" کے نام سے بھی جانا جاتا رہا ہے۔ بعض حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ شال بطور تحفہ میر نصیر خان کی والدہ کو دیا گیا، تاہم تاریخی حوالوں کے مطابق مشہد کی جنگ 1749 میں ہوئی، جبکہ شال، مستونگ، دکی اور پشین کو اس سے پہلے ہی قندھار کے مشرقی ولایات کے طور پر درج کیا جا چکا تھا۔

 

آئین اکبری (1597–98) میں ابوالفضل نے شال اور مستونگ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ان علاقوں میں افغان کاسی قبائل آباد تھے، جبکہ مستونگ میں بلوچ آبادی کی موجودگی بھی بیان کی گئی ہے۔

 

اس معاملے پر بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے انفارمیشن سیکرٹری، سابق ایم پی اے اور سینیٹر ثنا اللہ بلوچ نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ کی ملکیت کا سوال اس وقت سیاسی طور پر غیر اہم ہے۔ ان کے مطابق اصل توجہ بلوچستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں اور محرومیوں پر مرکوز ہونی چاہیے۔

 

دوسری جانب ایڈووکیٹ ہمایوں خان کاسی کا موقف ہے کہ تاریخی حوالوں کے مطابق کوئٹہ کاسی اور دیگر پشتون قبائل کی ملکیت رہا ہے، جبکہ زمین کی خرید و فروخت کو اجتماعی قومی حدود کے تعین کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔

 

جہاں انتظامی تقسیم اور ملکیتی سوالات موجود ہوں، وہاں تاریخی حقائق کا دیانتداری سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ قومی حدود، سیاسی و سماجی شناخت کے استحکام کے لیے لازم ہے کہ ایسے معاملات کا حل مستند تاریخ اور حقیقت پسندانہ مکالمے کی بنیاد پر تلاش کیا جائے تاکہ آئندہ نسلوں کے لیے پرامن اور مستحکم ماحول قائم کیا جا سکے۔