جامعہ پشاور میں انتظامیہ اور اساتذہ کے درمیان جاری تنازع کے باعث تعلیمی سرگرمیاں شدید متاثر ہو گئی ہیں، جبکہ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) کے اعلان کردہ بائیکاٹ کے باعث مسلسل تیسرے روز بھی کلاسز اور دفتری امور معطل ہے۔
پیوٹا کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی میں تاخیر، پنشن کے مسائل اور پروموشن کے عمل میں رکاوٹ کے خلاف یہ احتجاج شروع کیا گیا ہے، جس سے درس و تدریس، امتحانات اور داخلہ امور بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ذاکر اللہ جان نے بتایا کہ اساتذہ نے پیر سے احتجاج کا آغاز کیا اور مکمل بائیکاٹ جاری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دو برس سے تنخواہیں بروقت ادا نہیں کی جا رہیں جبکہ پروموشن کے لیے سلیکشن بورڈ کے اجلاس بھی طویل عرصے سے منعقد نہیں ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا: جامعات میں طالبات کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ
پیوٹا کا مؤقف ہے کہ وائس چانسلر کی جانب سے سلیکشن بورڈ کا اجلاس بلانے میں مسلسل ناکامی کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا ہے اور جب تک اجلاس طلب نہیں کیا جاتا، بائیکاٹ جاری رہے گا۔
دوسری جانب جامعہ پشاور کی جائنٹ ایکشن کمیٹی، جس میں کلاس فور ملازمین، سینیٹیشن اسٹاف اور ایڈمنسٹریٹو آفیسرز ایسوسی ایشنز شامل ہیں، نے پیوٹا قیادت سے ملاقات کر کے یکجہتی کا اظہار کیا اور احتجاج میں شمولیت پر مشاورت کی۔
پیوٹا حکام کے مطابق جائنٹ ایکشن کمیٹی کو فی الحال انتظار کرنے کا کہا گیا ہے، تاہم مسئلہ حل نہ ہونے کی صورت میں مکمل یونیورسٹی بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
جامعہ پشاور میں 54 سے زائد شعبہ جات قائم ہیں جہاں تقریباً 20 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اساتذہ کے مطابق یونیورسٹی کو سالانہ تقریباً 5.5 ارب روپے درکار ہوتے ہیں، جبکہ آمدن اور حکومتی فنڈز ملا کر تقریباً چار ارب روپے دستیاب ہوتے ہیں، جس کے باعث ہر سال لگ بھگ ڈیڑھ ارب روپے کا خسارہ پیدا ہوتا ہے۔
اساتذہ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر خصوصی گرانٹ جاری کی جائے، سلیکشن بورڈ کے اجلاس بلائے جائیں اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو سکیں۔
