حکومتِ خیبر پختونخوا نے کالاش میرج بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد پہلی بار پاکستان میں کسی مقامی برادری کے شادی اور خاندانی قوانین کو باقاعدہ قانونی حیثیت مل گئی ہے۔ بل کی منظوری وزیرِاعلیٰ اور صوبائی کابینہ نے دی۔

 

نئے قانون کے تحت کالاش شادیوں کو قانونی طور پر تسلیم کیا جائے گا اور شادیوں کی رجسٹریشن کے لیے ان کی روایات کے مطابق باقاعدہ نظام بنایا جائے گا۔ اس اقدام سے کالاش برادری کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا ہے اور شادی سے متعلق معاملات میں موجود قانونی خلا کو پُر کیا گیا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیے:  خیبرپختونخوا: رمضان پیکج کی منظوری، کن خاندانوں کو کتنے ہزار روپے ملیں گے؟

 

یہ بل فیتھ فرینڈز (Faith Friends) اور بلیو وینز (Blue Veins) کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے، جس میں نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (NCHR) نے بھی تعاون کیا، جبکہ اس عمل کا آغاز کالاش رہنما وزیرزادہ نے کیا۔

 

کالاش برادری ضلع چترال کی وادیوں بمبوریت، رمبور اور بیریر میں آباد ہے۔ یہ برادری اپنی قدیم تہذیب، مخصوص مذہبی عقائد، زبان اور رنگا رنگ ثقافت کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، تاہم اب تک انہیں شادی اور خاندانی معاملات کے لیے کوئی واضح قانونی نظام میسر نہیں تھا۔

 

بلیو وینز کے پروگرام مینیجر اور بل کے مسودہ نگار قمر نسیم نے کہا کہ اس بل کی منظوری پاکستان کے ثقافتی تنوع کو تسلیم کرنے کی ایک اہم مثال ہے۔ ان کے مطابق ریاست نے پہلی بار کالاش برادری کے شادی کے قوانین کو ان کی روایات اور عقائد کے مطابق قانونی تحفظ دیا ہے۔

 

نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے نمائندے رضوان نے کہا کہ اس قانون سے کالاش شادیوں کو قانونی شناخت ملے گی، جس سے دستاویزی سہولت، وراثت کے حقوق کے تحفظ اور سماجی سہولیات تک رسائی میں آسانی ہوگی، جبکہ برادری کی ثقافتی خودمختاری بھی برقرار رہے گی۔

 

ماہرین کے مطابق یہ قانون اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور پاکستان کے کثیر الثقافتی ورثے کو تسلیم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق  یہ بل دیگر مقامی اور اقلیتی برادریوں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے۔