نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد ڈھیری کٹی خیل میں دہشت گردوں نے پولیس اور سیکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں پولی  ایک افسر شہید جبکہ دو زخمی ہوگئے۔

 

پولیس کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی فورسز اسلام آباد میں ہونے والے خودکش حملے کے سلسلے میں ٹارگٹڈ آپریشن کر رہی تھیں کہ اس دوران دہشت گردوں نے حملہ کر دیا۔

 

 فائرنگ کے تبادلے میں نوشہرہ کینٹ پولیس کے اے ایس آئی اعجاز خان  شہید ہوگیا۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں ایک دہشت گرد کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جبکہ دیگر دہشت گرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ علاقے میں فرار دہشت گردوں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

 

ادھر وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی ٹاک شو میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران 600 سے 700 افراد مارے گئے، جن میں بڑی تعداد افغان شہریوں کی بھی شامل تھی۔ وزیر دفاع کے مطابق آج کا حملہ آور نوشہرہ سے اسلام آباد آیا تھا اور گزشتہ کچھ عرصے کے دوران وہ افغانستان آتا جاتا رہا ہے۔

واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔