پشاور ہائیکورٹ نے پولیس لائنز پشاور خودکش دھماکے کے مقدمے میں گرفتار ملزم امتیاز عرف تورہ شپہ کی ضمانت منظور کرلی۔

ملزم کی ضمانت درخواست پر سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے کی۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کردیا۔

 

سماعت کے دوران وکیلِ درخواست گزار شبیر گگیانی نے مؤقف اختیار کیا کہ 30 جنوری 2023 کو ملک سعد شہید پولیس لائنز میں ہونے والے خودکش دھماکے میں 90 سے زائد پولیس اہلکار شہید جبکہ تقریباً 245 زخمی ہوئے تھے۔ ملزم امتیاز کو اس مقدمے میں سہولت کاری کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

 

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں گزشتہ تین سال سے ٹرائل جاری ہے تاہم تاحال مقدمہ مکمل نہیں ہو سکا۔ واقعے میں مجموعی طور پر 40 گواہان نامزد ہیں جن میں سے اب تک صرف 9 کے بیانات ریکارڈ کیے جا سکے ہیں۔

 

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق ملزم کی عمر 18 سال سے کم ہے اور قانون کے تحت جووینائل ملزم کے خلاف ٹرائل چھ ماہ کے اندر مکمل کرنا لازم ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ برس ایس پی سی ٹی ڈی نے ٹرائل مکمل کرنے کے لیے عدالت سے 90 دن کی مہلت طلب کی تھی، تاہم تین سال گزرنے کے باوجود ٹرائل مکمل نہیں کیا جا سکا۔

 

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق کسی ملزم کو ٹرائل کے اختتام تک غیر معینہ مدت کے لیے حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔

عدالت نے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے ملزم امتیاز عرف تورہ شپہ کی ضمانت منظور کرلی۔