جنوری کی یخ بستہ سردی میں سڑک کے کنارے لمبی قطاروں میں کھڑی گاڑیاں، اور ان گاڑیوں میں بیٹھی وادی تیراہ کی وہ خواتین جن کی گود میں معصوم بچے ہیں۔ بچوں کی آنکھوں میں خوف جما ہوا ہے اور ماؤں کے دلوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے کہ ہماری خطا کیا ہے؟

 

 جو اپنے ننھے بچے کو دوپٹے میں لپیٹ کر سینے سے لگائے، برف باری میں رات کے اندھیرے کے دوران گاڑیوں کی قطار میں بیٹھی ہے۔ کبھی سڑک کھلنے کے انتظار میں اور کبھی رجسٹریشن کی ایک مدھم سی امید لیے۔ سردی ہڈیوں میں اتر چکی ہے مگر اس سے زیادہ ٹھنڈی وہ بے حسی ہے جو ہر لمحہ ان کے مقدر کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔

 

یہ کسی ایک ختون  کی کہانی نہیں بلکہ وادی تیراہ کی ہزاروں خواتین کی اجتماعی چیخ ہے۔ وہ خواتین جو اپنی جان، اپنی عزت اور اپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لیے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئیں۔ ایک طرف تیراہ کی محرومیوں بھری زندگی ہے اور دوسری طرف بارود، ڈرونز اور ایسا خوف ہے جو ہر لمحہ چھت گرنے کے احساس میں بدل جاتا ہے۔ انہی حالات نے انہیں ہجرت پر مجبور کیا مگر ریاست نے اس ہجرت کو بھی عذاب بنا دیا۔

 

راستے میں نہ خوراک میسر ہے، نہ صاف پانی۔ خواتین کے لیے نہ کوئی علیحدہ اور محفوظ جگہ موجود ہے، نہ پردے کا مناسب انتظام، نہ شفاف رجسٹریشن کا نظام، اور نہ ہی طبی امداد کی بنیادی سہولیات۔

 

 ان قافلوں میں یقیناً حاملہ خواتین بھی شامل ہیں جنہیں فوری اور مسلسل طبی نگہداشت درکار ہے، مگر ان کے لیے کوئی انتظام نظر نہیں آتا۔ اس کٹھن نقل مکانی کے دوران کتنے حادثات پیش آئے، اور کتنی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں، اس کا درست حساب شاید کبھی سامنے نہ آ سکے۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا یخ بستہ سردی اور برف باری جیسے حالات میں نقل مکانی کا فیصلہ واقعی ناگزیر اور درست تھا؟

 

یہ بھی پڑھیں:  برف میں پھنسی زندگیاں، تیراہ میں انسانی المیے کا ذمہ دار کون؟

 

یہ نقل مکانی خاص طور پر وادی تیراہ کی خواتین اور بچوں کے لیے ایک شدید ذہنی اور نفسیاتی بحران بن چکی ہے۔ قبائلی معاشرے کی وہ خواتین جو پہلے ہی تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اس ہجرت میں دوہرا ظلم سہہ رہی ہیں۔ بے گھری، خوف، سردی اور ذلت سب ایک ساتھ ان کا مقدر بن چکے ہیں۔

 

اس پوری صورتحال میں صوبائی حکومت کی نااہلی بھی کھل کر سامنے آ چکی ہے اور وفاقی ریاستی اداروں کی خاموشی بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ آئین پاکستان ہر شہری کو جان، مال اور عزت نفس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے تو پھر قبائل کو یہ آئینی حقوق کیوں حاصل نہیں؟ ریاست اور صوبائی حکومت ایک دوسرے پر الزام تراشی میں مصروف ہیں اور اس بے حسی پر حیرت نہیں بلکہ شدید افسوس ہوتا ہے۔ جن لوگوں کے ووٹوں سے یہ اقتدار میں آئے، آج انہی کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

 

اب جب نقل مکانی ہو چکی ہے، جب مائیں اپنے بچے کھو چکی ہیں اور جب خواتین ذلت، خوف اور سردی سہہ چکی ہیں، تب وفاقی حکومت کا ایک بیان سامنے آتا ہے کہ ریاست نے نقل مکانی کے کوئی احکامات جاری نہیں کیے تھے۔

 

سوال یہ ہے کہ جب یہ قافلے سڑکوں پر تھے، جب بچے ٹھٹھرتے رہے اور جب خواتین مدد کے لیے پکار رہی تھیں، تب یہ بیان کیوں نہیں آیا؟ کیا حکومت یا ریاست ایسی ہوتی ہے؟ 

 

پاکستان میں انسانی حقوق کی عالمی اور مقامی تنظیمیں خاموش ہیں۔ وومن ایمپاورمنٹ اور انسانی حقوق کے لیے کرنے والی تنظیمیں آج قبائلی خواتین کی اس اذیت پر کیوں خاموش ہیں؟ کیا قبائلی خواتین، خواتین نہیں؟ کیا ان کے دکھ توجہ کے مستحق نہیں؟

 

وادی تیراہ کے عوام شدید ذہنی اور جذباتی دباؤ سے گزر رہے ہیں۔ مسلسل محرومی اور غیر یقینی صورتحال نے عوام میں بے چینی اور خوف کو جنم دیا ہے، جو اگر بروقت توجہ نہ پائے تو مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

 

 ایسی صورت میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کے ذریعے حالات کو سنبھالا جائے، بصورتِ دیگر یہ مسئلہ صرف وادی تیراہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات وسیع سماجی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

 

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔