آج صبح جب میں نیند سے بیدار ہوا اور کھڑکی سے باہر جھانکا تو ایک لمحے کے لیے سانس تھم سی گئی۔ خیبر کے برف پوش پہاڑ، جمرود سے لے کر لنڈی کوتل تک، ایک نادر اور دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔

 

 کئی برسوں بعد پشاور کے گرد و نواح میں پہاڑ دوبارہ سفید چادر اوڑھے دکھائی دے رہے تھے۔ خاموشی، سفیدی اور سرد ہوا میں ایک عجیب سی خوبصورتی تھی، ایسی خوبصورتی جو انسان کو چند لمحوں کے لیے سب کچھ بھلا دیتی ہے۔

 

بہت سے لوگوں کے لیے یہ منظر مسرت اور سکون کا باعث تھا۔ موبائل فون نکلے، تصاویر بنیں، ویڈیوز سوشل میڈیا پر لگیں، اور برف کو ایک رومانوی نعمت کے طور پر دیکھا گیا۔ لیکن یہ کیفیت میرے لیے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔

 

میری سوچ فوراً وادی تیراہ کی طرف چلی گئی—ان ہزاروں مردوں، عورتوں اور بچوں کی طرف جو اسی برفباری کو خوبصورت منظر کے طور پر نہیں بلکہ ایک خوفناک حقیقت کے طور پر جھیل رہے تھے۔ 

 

وہ لوگ جو اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جو کھلے آسمان تلے یا گاڑیوں میں پھنسے ہوئے ہیں، اور جن کے لیے یہ برف خوشی نہیں بلکہ جان لیوا خطرہ بن چکی ہے۔

 

ان کے لیے برف ایک منظر نہیں، ایک آزمائش ہے۔ یہ برف ایسے وقت میں گری جب ان کی زندگیاں پہلے ہی بدترین حالات سے دوچار تھیں۔ یہ سردی، یہ سفیدی، اس انسانی بحران کو مزید بے نقاب کر رہی تھی جو کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی فیصلوں، ناقص منصوبہ بندی اور بے حسی کا شاخسانہ ہے۔

 

شدید سردیوں میں متاثرین کی مشکلات

 

 وادی تیراہ کے کئی خاندان دوا توئی، ٹان، میدان اور مہربان کلی میں کئی دنوں سے محصور ہیں۔ سینکڑوں گاڑیاں، کاریں، ٹرک اور لاریاں باڑہ اور تیراہ کے راستوں پر لمبی قطاروں میں پھنس گئی ہیں اور بہت سست رفتاری سے چند کلومیٹر بھی نہیں بڑھ پائیں۔ 

 

برفباری، خراب سڑکیں اور ناکافی انتظامات نے ایک پہلے سے کمزور آبادی کو خطرناک حالات میں ڈال دیا ہے۔

یہ قطاریں بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیماروں سے بھری ہوئی ہیں۔ درجہ حرارت گرنے کے ساتھ لوگ گاڑیوں میں یا کھلے آسمان تلے سوتے ہیں وہ بھی بغیر مناسب خوراک، صاف پانی، ہیٹنگ یا طبی سہولیات کے۔ 

 

مقامی ذرائع کے مطابق خوراک اور دوائیوں کی شدید کمی ہے، بچوں اور بزرگ خواتین سردی، تھکن اور صدمے کا شکار ہیں۔ امدادی کوششیں اب بھی سست، غیر مربوط اور ناکافی ہیں۔

 

یہ بحران موسم کی وجہ سے نہیں بلکہ فیصلوں کی وجہ سے ہے

 

یہ ہنگامی صورتحال صرف برفباری سے نہیں ہے بلکہ ناقص منصوبہ بندی اور شہری و فوجی حکام کے درمیان کمزور رابطے کا نتیجہ ہے۔ 

 

جب متاثرین کو فرار ہونا پڑا تو بہت سنجیدہ سوالات پیدا ہوئے۔ تاریخی طور پر وادی تیراہ میں سردیوں میں عسکری سرگرمیاں کم ہو جاتی ہیں کیونکہ موسم سخت اور راستے دشوار گزار ہوتے ہیں۔ اگر نقل مکانی ناگزیر تھی تو یہ محفوظ موسموں میں کی جا سکتی تھی، یا تو گرمی میں جب سیکیورٹی کے مسائل بڑھتے ہیں، یا بہار میں جب سڑکیں کھلی ہوں اور ہنگامی تیاری ممکن ہو۔

 

لیکن ان متاثرین کو شدید سردی میں بغیر مناسب ٹرانسپورٹ پلان، پناہ گاہوں یا متبادل انتظامات کے باہر نکلنے پر مجبور کیا گیا۔ اس کا نتیجہ صرف حادثاتی نہیں بلکہ پیش گوئی کے قابل تھا۔

 

خطرناک راستے اور ہلاکتیں

 

وادی تیراہ  کے پہاڑی راستے عام حالات میں بھی خطرناک ہیں۔ گزشتہ چند دنوں میں متعدد گاڑیاں برف میں پھنس کر کھائیوں میں جا گری ہیں، جس سے ہلاکتیں ہوئی اور کئی لوگ زخمی بھی  ہو گئے۔ سرکاری اعداد و شمار میں محدود بچاؤ کا ذکر ہے، لیکن مقامی ذرائع کے مطابق کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

 

جو لوگ باڑہ یا پشاور پہنچے ہیں، ان کے لیے بھی حالات آسان نہیں ہیں۔ کئی خاندان رشتہ داروں کے گھروں میں رہائش اختیار کر رہے ہیں، جبکہ دیگر کو کرایہ کے مکانات میں شدید کمی کا سامنا ہے۔ حکومت کی طرف سے مدد محدود رہی ہے، صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور معمولی ماہانہ وظیفے یہ کافی نہیں ہے۔ پناہ، سردیوں کی حفاظت، صحت کی سہولیات اور وقار بنیادی ذمہ داریاں ہیں، خصوصاً جب نقل مکانی ریاست کی طرف سے کی گئی ہو۔

 

ذمہ داری اور حقوق کا امتحان

 

قومی سیکیورٹی کے نام پر کی گئی نقل مکانی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری لے کر آتی ہے۔ عسکری کارروائیاں جائز ہو سکتی ہیں، لیکن یہ شہریوں کے تحفظ کی ذمہ داری کو ختم نہیں کرتی،

 

 فوج کے پاس تیراہ  میں بڑی لاجسٹک صلاحیت موجود ہے، شہری حکام کی ذمہ داری منصوبہ بندی، رابطہ کاری، شفافیت اور شہری حفاظت ہے۔ یہ بحران پہلے سے متوقع تھا، کمی تیاری اور جوابدہی کی تھی۔

 

فوری کارروائی کی ضرورت

 

بغیر فوری مداخلت کے یہ صورتحال بڑے انسانی المیے میں بدل سکتی ہے۔ تیراہ کے لوگ سیاسی بیانات یا مظاہری اقدامات نہیں چاہتے۔ انہیں سڑکیں کھولی جائیں، پناہ گاہیں فراہم کی جائیں، خوراک اور دوا دی جائے، اور زندگی محفوظ کی جائے۔ برف قدرتی ہے، یہ بحران نہیں۔

 

یہ حکمرانی، رابطہ کاری اور انسانی زندگی کے احترام کا امتحان ہے، اور اب تک یہ امتحان خطرناک حد تک ناکام ہو رہا ہے۔

 

 یہ عمل کرنے کا لمحہ ہے، بیانات دینے کا نہیں۔ رابطہ کاری کا لمحہ ہے، الزام لگانے کا نہیں۔ اور سب سے بڑھ کر، ہمدردی کا لمحہ ہے۔ تیراہ کے لوگوں پر رحم کریں،

 

 ان کی تکالیف کے ساتھ سیاسی زبان نہ کھیلیں، انہیں بنیادی ضروریات فراہم کریں، اور ان کی محفوظ، رضا کارانہ اور باوقار واپسی کو یقینی بنائیں اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔