گل ناز
خیبر پختونخوا میں حکومتِ پاکستان کی پالیسی کے مطابق غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا عمل بدستور جاری ہے۔ صوبائی حکومت کی ہدایات کے مطابق کوہاٹ ڈویژن سمیت مختلف اضلاع میں عملی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ افغان مہاجرین کی واپسی کو منظم، قانونی اور انسانی بنیادوں پر یقینی بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں افغان مہاجرین کی سہولت کے لیے نادرا کے خصوصی رجسٹریشن و سہولت مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع ہنگو اور تحصیل ٹل میں قائم یہ مراکز افغان باشندوں کو وطن واپسی کے لیے رجسٹریشن، ٹوکن کے حصول اور دیگر ضروری مراحل میں آسانی فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں افغان صحافیوں کو بڑھتے مسائل اور عدم تحفظ کا سامنا
اسسٹنٹ کمشنر ٹل، شاہ بخت یوسفزئی کے مطابق گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج ٹل میں افغان مہاجرین کے لیے نادرا سہولت مرکز قائم کیا گیا ہے، جہاں مہاجرین اپنا اندراج کر سکتے ہیں، رجسٹریشن مکمل کر سکتے ہیں اور وطن واپسی کے لیے درکار ٹوکن حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ سہولت خاص طور پر ان افغان مہاجرین کے لیے فراہم کی گئی ہے جو خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع اور کیمپوں میں مقیم ہیں، جن میں ٹل، ہنگو، بنوں اور ملحقہ علاقے شامل ہیں۔ افغان مہاجرین افغانستان کے مختلف صوبوں، جن میں گردیز، پکتیکا، پکتیا، خوست، قندھار اور دیگر علاقے شامل ہیں، سے تعلق رکھتے ہیں۔
انتظامیہ کے مطابق یہ مہاجرین خرلاچی بارڈر کے ذریعے آسانی سے افغانستان واپس جا سکتے ہیں، جو جغرافیائی لحاظ سے زیادہ قریب اور سہل راستہ ہے۔ کوہاٹ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ طورخم بارڈر کے بجائے خرلاچی بارڈر کو فعال کیا جائے تاکہ کوہاٹ، ہنگو، ٹل اور بنوں کے علاقوں میں مقیم افغان مہاجرین کے لیے سفر آسان اور وطن واپسی کا عمل تیز ہو۔
ٹل میں قائم سہولت مرکز سے افغان مہاجرین کو ٹوکن جاری کیے جا رہے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ مقررہ تاریخوں میں خرلاچی بارڈر کے ذریعے وطن واپس روانہ ہو سکیں گے۔ یہ سہولت 21 جنوری سے 30 جنوری تک دستیاب رہے گی اور اس دوران بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی واپسی متوقع ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک مجموعی طور پر تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 812 افغان باشندوں کو وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جن میں 2 لاکھ 30 ہزار 470 پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہولڈرز، 71 ہزار 570 افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے افراد اور 6 لاکھ 86 ہزار 772 غیر قانونی طور پر مقیم افغان شامل ہیں۔
یہ افراد مختلف سرحدی راستوں کے ذریعے افغانستان واپس روانہ کیے گئے ہیں، جس سے وطن واپسی کا عمل مرحلہ وار اور منظم انداز میں مکمل کیا جا رہا ہے۔
کوہاٹ کے گھمکول افغان مہاجر کیمپ کے رہائشی گل ولی کے مطابق، حالیہ سہولتوں سے کیمپ میں مقیم مہاجرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، تاہم زیادہ تر مہاجرین نے اپنا روزگار سمیٹنا شروع کر دیا ہے اور حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
مہاجرین کوشش کر رہے ہیں کہ وہ حکومتی ہدایات کے مطابق مقررہ وقت کے اندر اپنے وطن واپس روانہ ہو جائیں تاکہ کسی قانونی کارروائی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
صوبائی سطح پر ہونے والے اجلاس میں کمشنر کوہاٹ ڈویژن، معتصم باللہ کی زیر صدارت ضلعی انتظامیہ ہنگو، ضلعی پولیس اور افغان مہاجرین کے عمائدین نے شرکت کی۔ اجلاس میں مہاجرین کو واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ ضلع ہنگو میں قائم اپنے تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیاں تین دن کے اندر سمیٹ لیں اور یہ پیغام اُن تمام افغان باشندوں تک پہنچایا جائے جو کیمپوں سے باہر کرائے کے مکانات میں مقیم ہیں۔
ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی گئی کہ وطن واپسی کے عمل سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر رپورٹس پیش کی جائیں، جن میں واپس جانے والے افغان باشندوں کی تعداد، درپیش مسائل اور سہولیات کی تفصیلات شامل ہوں، تاکہ صوبائی حکومت کو مکمل آگاہی فراہم کی جا سکے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کا عمل مکمل طور پر قانون کے دائرے میں، مرحلہ وار اور منظم انداز میں مکمل کیا جائے گا۔
