سقوطِ کابل کے بعد خیبر پختونخوا آنے والے افغان مہاجر صحافی، خصوصاً خواتین صحافی، اس وقت شدید مشکلات، قانونی غیر یقینی صورتحال اور مسلسل خوف کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
افغان مرد و خواتین صحافیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصے میں ان کے مسائل میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، تاہم خواتین صحافیوں کے لیے حالات کہیں زیادہ سنگین ہو چکے ہیں۔
کئی خواتین صحافیوں کو کرائے کے گھروں کے مالکان کی جانب سے نوٹس دیے جا رہے ہیں کہ یا تو وہ گھر خالی کریں یا اپنے ویزوں کا بندوبست خود کریں، جو موجودہ حالات میں ان کے لیے ممکن نہیں۔
ان صحافیوں کا ایک بڑا مسئلہ پاکستانی سم کارڈز کی عدم دستیابی ہے۔ زیادہ تر کے پاس صرف افغان سم کارڈز ہیں جو پاکستان میں مؤثر طور پر کام نہیں کرتے۔
اس صورتحال میں جب خواتین صحافی گھریلو ضروریات، خصوصاً سودا سلف خریدنے کے لیے گھر سے باہر نکلتی ہیں تو ان کا اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ منقطع ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : محبت اور ہمدردی کی سرحدیں نہیں ہوتیں
ایک افغان خاتون صحافی نے بتایا:
“یہ مسئلہ بظاہر چھوٹا لگتا ہے، مگر ہمارے لیے یہ خوف کی علامت ہے۔ جب ہم گھر سے نکلتے ہیں تو ہمارے اہلِ خانہ ہم سے رابطہ نہیں کر پاتے، اور ہر لمحہ کسی ناخوشگوار واقعے کا خدشہ رہتا ہے۔”
پشاور میں مقیم ایک بیوہ خاتون صحافی، جو اپنے چار بچوں کی واحد کفیل ہیں، کہتی ہیں کہ ان کے بچوں کے لیے سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ کہیں ان کی والدہ کو پولیس حراست میں نہ لے لیا جائے۔
“جب میں دیر سے واپس آتی ہوں تو میرے بچے گھبرا جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ شاید مجھے تھانے لے جایا گیا ہے۔ یہ خوف ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔”
ایک اور خاتون صحافی نے گزشتہ رات کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنی بیمار بچی کو پشاور کے ایک ہسپتال لے گئی تھیں، جہاں ایک بچے کی مبینہ طور پر ڈاکٹر کی غفلت کے باعث ہلاکت پر احتجاج جاری تھا اور پولیس بھی موقع پر موجود تھی۔
“پولیس ہر شخص سے پوچھ رہی تھی کہ تم یہاں کیوں آئے ہو اور کہاں سے آئے ہو۔ میں کانپ رہی تھی کہ کہیں مجھ سے بھی یہ سوال نہ کر لیا جائے،” انہوں نے بتایا۔
“مجھے خوف تھا کہ اگر مجھے گرفتار کر کے میری بیمار بچی سمیت ڈی پورٹ کر دیا گیا تو میرے باقی بچے یہاں اکیلے رہ جائیں گے۔”
افغان صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان کے خدشات بے بنیاد نہیں۔ ان کے مطابق افغانستان واپسی ان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ انہوں نے ماضی میں ایسے میڈیا اداروں میں کام کیا ہے جنہیں افغان طالبان سابقہ حکومت کا حامی تصور کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے کبھی کسی سیاسی یا عسکری فریق کی حمایت یا مخالفت نہیں کی بلکہ صرف حقائق پر مبنی صحافت کی۔
“ہم نے سچ لکھا اور سچ دکھایا، مگر آج یہی سچ ہماری جان کے لیے خطرہ بن چکا ہے،” ایک صحافی نے کہا۔
متاثرہ صحافیوں نے حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ویزوں میں عارضی توسیع کی جائے اور انہیں پاکستانی سم کارڈز کے حصول کی اجازت دی جائے تاکہ ان کے روزمرہ مسائل اور ذہنی دباؤ میں کچھ کمی آ سکے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان میں مقیم افغان خواتین صحافیوں کو شدید ذہنی دباؤ، بے گھری اور زبردستی افغانستان واپسی جیسے سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں ان کی جان کو حقیقی خطرات لاحق ہیں۔
