حکومتِ پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کو وطن واپسی کی ہدایت دی گئی ہے اور پاکستان کے مختلف شہروں اور کیمپوں میں مقیم افغان مہاجرین مختلف اوقات اور موسموں میں اپنے ملک واپس جا رہے ہیں۔ کبھی شدید گرمی، کبھی رمضان المبارک اور اب شدید سردی میں یہ عمل جاری ہے، اور ہر مرحلے پر افغان مہاجرین کو الگ الگ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جیسے ہی افغان مہاجرین کی واپسی کا اعلان ہوتا ہے، عوامی سطح پر تنازع، نفرت اور سوشل میڈیا پر تلخ زبان کا استعمال شروع ہو جاتا ہے۔ دونوں جانب گالی گلوچ اور الزام تراشی مسائل کو حل کرنے کے بجائے افغان مہاجرین کی اذیت میں اضافہ کرتی ہے۔
میرے سمیت بہت سے افغان مہاجرین کے ذہنوں میں سوالات اور گلے شکوے ہیں، جن پر بات کرنا ضروری ہے، کیونکہ خاموشی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
افغان مہاجرین کا ایک بڑا گلہ یہ ہے کہ واپسی کے وقت جب وہ اپنے گھر، گاڑیاں اور گھریلو سامان فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تو اکثر لوگ ان کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اشیاء انتہائی کم قیمت پر خریدی جاتی ہیں اور بعض اوقات مذاق بھی اڑایا جاتا ہے، جو ایک تکلیف دہ اور غیر انسانی رویہ ہے۔
دوسرا گلہ یہ ہے کہ بہت سے افغان مہاجرین ایسے ہیں جن کا افغانستان میں کوئی ذاتی گھر یا جائیداد نہیں۔ شدید سردی اور محدود سہولیات کے باعث وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں کچھ وقت دیا جائے تاکہ وہ رہائش کا بندوبست کر سکیں۔ لاکھوں افغان مہاجرین کی ایک ساتھ واپسی میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو جاتا ہے کہ اگر وہ یہاں سے جائیں تو آخر کہاں جائیں؟
تیسرا اور سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ افغان مہاجرین نے تقریباً چالیس سال پاکستان میں گزارے ہیں۔ ان کے بچے یہیں پیدا ہوئے، تعلیم حاصل کی، جوان ہوئے، رشتے ناطے قائم ہوئے اور بہت سے اپنے پیاروں کو اسی سرزمین میں دفن کیا۔ ایسی صورت میں اچانک جدائی آسان نہیں ہوتی، خاص طور پر جب دونوں طرف ایک ہی ثقافت اور دکھ سکھ کا رشتہ موجود ہو۔
یہ حقیقت ہے کہ یہ فیصلے ریاستی پالیسی کا حصہ ہوتے ہیں اور ہر ملک کو یہ اختیار حاصل ہے، مگر عوامی سطح پر نفرت پالنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس سے نہ پالیسیاں بدلتی ہیں اور نہ ہی زمینی مسائل کم ہوتے ہیں۔
افغان مہاجرین نے پاکستان میں محنت سے اپنی زندگیاں بنائیں۔ واپسی کے وقت اگر وہ اپنا سامان فروخت کر رہے ہیں تو ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جانا چاہیے۔ اشیاء کو مناسب قیمت پر خریدنا اور احترام کے ساتھ رخصت کرنا انسانی اور اسلامی اقدار کا تقاضا ہے، کیونکہ بہت سے افغان مہاجرین پاکستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔
افغان کیمپوں میں ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں افغان مہاجرین اور پاکستانی عوام ایک دوسرے کو گلے لگا کر رخصت اور جدائی کے دکھ بانٹتے ہیں۔ یہ مناظر ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل مسئلہ نفرت نہیں بلکہ حالات ہیں۔
میرا ماننا ہے کہ حکومت کو افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو مرحلہ وار رکھنا چاہیے: واپسی تدریجی ہو، سرد علاقوں کے لوگوں کو اضافی مہلت دی جائے اور انسانی ہمدردی کو فیصلوں میں مرکزی حیثیت دی جائے۔
عوامی سطح سے گزارش ہے کہ افغان مہاجرین کا استحصال نہ کریں اور سوشل میڈیا پر قوم، نسل یا ملک کو نشانہ نہ بنائیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے، نفرت نہیں۔عالمی اداروں کو بھی افغانستان میں بنیادی سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
یہ وقت الزام تراشی کا نہیں ہے۔ نہ افغان مہاجرین دشمن ہیں اور نہ عوامی سطح بے حس۔ ایک دوسرے کو سمجھیں اور صبر و حوصلے سے اس مشکل مرحلے کا سامنا کریں۔
