قبائل علاقوں کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد معاشی ترقی، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں نمایاں بہتری لانا ہے۔
اس پیکیج کے تحت معاشی ترقی کے لیے چھ مختلف تھیمیٹک ایریاز میں سرمایہ کاری کی جائے گی، جس میں قبائل میڈیکل کالج، انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن سائنسز اور ڈیجیٹل سٹیوں کے قیام پر خاص توجہ دی گئی ہے۔
ہر ضلع میں اسپورٹس کمپلیکس قائم کیے جائیں گے اور ہر تحصیل میں اسپورٹس گراؤنڈ کے ساتھ یتیم خانے اور پناہ گاہیں بھی تعمیر کی جائیں گی۔
بازاروں اور ضم اضلاع کے داخلی و خارجی راستوں کو سیف سٹی پروگرام میں شامل کیا جائے گا جبکہ سکولوں، صحت کے مراکز اور بازاروں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ پیکیج قبائل علاقوں میں تعلیمی، صحت اور معاشی شعبوں میں نئی راہیں کھولے گا۔
تعلیم کے شعبے میں 1245 نئے پرائمری سکول قائم کیے جائیں گے، 463 پرائمری اور 85 مڈل سکولوں کی اپ گریڈیشن کی جائے گی، جبکہ 975 پرائمری، 240 مڈل اور 125 ہائی سکولوں کی بحالی بھی پیکیج کا حصہ ہے۔ 11,500 اساتذہ کی بھرتی کے ساتھ مختلف اسکالرشپس بھی فراہم کی جائیں گی۔
صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن سنٹرز قائم کیے جائیں گے اور مراکز صحت کی بحالی و فعالی پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت دی کہ منصوبے بروقت مکمل کیے جائیں تاکہ قبائل علاقوں میں معاشی، تعلیمی اور سماجی ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
