ذاکر خان آفریدی
گزشتہ پندرہ برسوں میں متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود وادی تیراہ میں شدت پسندی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ شدت پسندی اب ایک زیادہ سنگین شکل میں دوبارہ سر اٹھا چکی ہے، جس کے مقامی آبادی کی زندگیوں پر گہرے اثرات پڑے ہیں۔
اگر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اور فوجی آپریشن کیا گیا تو اس کا مطلب اُن گھروں کو دوبارہ چھوڑنا ہوگا جو پچھلے آپریشنز کے بعد بڑی مشکل سے آباد ہوئے تھے۔
اس سے معاشی تباہی، تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور سب سے بڑھ کر مقامی لوگوں پر منفی نفسیاتی اثرات مزید بڑھیں گے۔
نئے آپریشن کے خدشات کے باعث مقامی لوگ ایک بار پھر اپنے علاقے چھوڑ کر ضلع خیبر کے میدانی علاقوں میں منتقل ہونے سے اجتناب کر رہے ہیں۔
تیراہ کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی مسئلے کو پیچیدہ بناتا ہے، کیونکہ اسے ایک شہری خطے کے بجائے اسٹریٹجک اور سیکیورٹی زون کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی سوچ پالیسی سازی پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
ابتدا میں یہ امید کی جا رہی تھی کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام ان علاقوں میں خوشحالی لائے گا، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ انضمام کے بعد انتظامی اور سیاسی خلا پیدا ہوا ہے۔
بعض مقامی افراد یہاں تک کہتے ہیں کہ فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) اُن کے لیے نسبتاً بہتر تھا اور نیا نظام ان کے لیے پیچیدہ ہے۔ ان کے مطابق انضمام عجلت میں کیا گیا اور مقامی آبادی سے مؤثر مشاورت نہیں کی گئی۔
اگرچہ آئینی طور پر قانون نافذ ہے، مگر عملاً عدالتوں تک رسائی نہیں، حکمرانی کمزور ہے اور مسائل بدستور موجود ہیں۔
وادی تیراہ کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ علاقہ نہ مکمل طور پر پُرامن ہے اور نہ ہی کسی نئے آپریشن کے لیے تیار۔ مقامی لوگ کئی ماہ سے دھرنوں کے ذریعے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور نقل مکانی سے انکار کر رہے ہیں۔
ماضی کی ہجرتوں کے نتیجے میں انہیں وسائل کی کمی، مالی مشکلات اور سماجی مسائل کا سامنا رہا ہے۔ اس دوران حکومت کی جانب سے واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جس سے غیر یقینی کی فضا مزید گہری ہو گئی ہے۔
یہ محض آپریشنل تھکن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ساختی مسئلہ ہے۔ ماضی میں فوجی آپریشنز کے ذریعے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ اسلام جیسے گروہوں کو ختم کیا گیا، مگر بعد ازاں سیاسی اور انتظامی خلا پُر نہ کیا جا سکا۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ مضبوط سول حکمرانی کے بغیر شدت پسندی کا دائرہ دوبارہ بنتا رہے گا۔ فوجی اقدامات سے حاصل ہونے والا عارضی استحکام مؤثر اداروں کے بغیر دیرپا نہیں ہو سکتا۔ خطے کی ترقی کے لیے سیاسی ملکیت ناگزیر ہے۔
حیران کن طور پر مقامی آبادی کے مسائل اجاگر کرنے میں قومی میڈیا کا کردار بھی محدود رہا ہے۔ جہاں رپورٹنگ ہوئی بھی، وہ زیادہ تر ریاستی مؤقف تک محدود رہی اور عوامی خدشات کی درست ترجمانی نہ کر سکی۔ مقامی صحافی آواز اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز کمزور پڑ جاتی ہے۔
اس صورتحال نے عوام میں محرومی اور عدم اعتماد کے احساس کو مزید بڑھایا ہے۔
یہ تنقید صرف سیکیورٹی فورسز تک محدود نہیں۔ ماضی میں انہوں نے ایک حد تک استحکام ضرور پیدا کیا، مگر مستقل حل صرف سول حکمرانی میں ہے۔
سرحدی علاقوں میں معمول کی زندگی نقل مکانی اور نظرانداز کرنے سے نہیں آتی، بلکہ مضبوط اداروں، قانون کی حکمرانی، مؤثر پولیسنگ، انصاف کی فراہمی، سیاسی نمائندگی اور میڈیا میں عوامی آواز کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔
نتیجتاً، تیراہ کا حل مزید فوجی آپریشنز میں نہیں بلکہ شفاف اور مؤثر ادارہ جاتی نظام، مکمل سول حکمرانی اور مقامی آبادی کی شمولیت میں ہے۔
جب تک عوام کی آواز اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچے گی اور ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، پائیدار امن اور استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکے گا۔
