وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے کہا کہ وہ صوبائی معاملات پر اسٹبلشمنٹ سے بات چیت کے لیے تیار ہیں اور ہر تقریب یا میٹنگ میں فیلڈ مارشل آرمی چیف سے ملاقات کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات ابھی تک نہیں کرائی جا رہی اور اسٹبلشمنٹ سے رابطوں کا ٹاسک محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو ذمہ داری کے طور پر سپرد کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی ملاقات میں ضم اضلاع کی ترقی، عوامی مفادات، کرپشن کے خاتمے اور اسٹبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے واضح موقف اپنایا۔
انہوں نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے مختص 1000 ارب روپے کے ترقیاتی پیکج میں سے وفاق کی ذمہ داری کے 700 ارب روپے ابھی تک ادا نہیں کیے گئے، جنہیں ترتیب وار ضم اضلاع میں خرچ کیا جائے گا تاکہ امن قائم ہو اور عسکریت پسندی کا خاتمہ ممکن ہو۔
وزیراعلیٰ نے حکومت کی شفافیت، میرٹ اور زیرو ٹالرنس پالیسی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ضم اضلاع کی محرومیاں عوام کے کھاتے میں ڈالنے والے مخالفین کی کوششیں ناکام ہوں گی۔
انہوں نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے کہا کہ حالات اور ماحول سازگار ہونے چاہئیں اور پی ٹی آئی کی قیادت مضبوطی کے ساتھ عوامی حمایت کے لیے میدان میں آئے۔
لاہور اور کراچی کے دوروں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ان کا مقصد عوام میں بیداری پیدا کرنا اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے عوامی حمایت متحرک کرنا ہے۔
لاہور کے دورے کے دوران کچھ افراد نے غلط زبان استعمال کی، جس پر عمل کا ردعمل تھا، تاہم وزیراعلیٰ نے اس پر معذرت کر دی اور کہا کہ یہ معاملہ حل کر لیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بجلی کے خالص منافع اور دیگر وفاقی بقایاجات کے مسائل حل کرنے کی کوششوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ پیسکو کو صوبائی انتظام میں لانے کے امکانات زیر غور ہیں۔
سابقہ وزرا و ارکان سے گاڑیاں اور دفاتر واپس لے لیے گئے ہیں اور پشاور، ڈیرہ موٹروے پر دس دنوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی گئی ہے۔
انہوں نے اپنے سو دنوں کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنے اور 8 فروری کے احتجاج کے انعقاد کا اعلان بھی کیا۔
وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبائی حکومت عوامی مفادات اور ضم اضلاع کی ترقی کے لیے مستقل اقدامات کرے گی اور اسٹبلشمنٹ سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔
